تم سے دن بھر کی کہوں اور تمہاری بھی سُنوں
یہ جو اترے ہیں رگ و جاں میں سبھی درد چُنوں
تم مجھے پیار سے سمجھاؤ مری ڈھارس باندھو
اور نصیحت پہ تمہاری، میں نئے خواب بُنوں
کاش! آ جائے کوئی کال تمہاری امی
اب کے سنبھلے گی نہ حالت یہ ہماری امی
کتنے دن بیت گئے تم ہی بتاؤ تو بھلا
کب بھلا تیرے بنا عمر گزاری امی؟ ؟
اتنا کڑوا کیوں دیا زہر جدائی والا ؟
اتنی کڑوی تو دوا بھی نہ کبھی دی تھی امی
"آخری کال” تمہاری جو سنی تھی میں نے
اس میں بھی دل کی کوئی بات نہیں کی امی

