Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, ستمبر 15, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
  • عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
  • ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
  • اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » نظام سے خوفزدہ عوام۔۔رولا رپہ/راﺅ خالد
راؤ خالد

نظام سے خوفزدہ عوام۔۔رولا رپہ/راﺅ خالد

ایڈیٹرجنوری 27, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Rao Khalid journalist
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ساہیوال کے واقعے کے بعد میرے جیسے بزعم خود بہت دلیر لوگ بھی شدید خوف کا شکار ہیں۔ رات کو لیٹ دفتر سے گھر جاتے ہوئے پولیس کی گشت کرتی ہوئی گاڑی کی فلیش لائٹس دیکھ کر میں دور سے ہی راستہ تبدیل کر لیتا ہوں کیا خبر کسی نے انکو دہشت گرد کے اسلام ا?باد کی سڑکوں پر سفر کرنے کی اطلاع دی ہو اور وہ اپنی بندوقیں لوڈ کئے اسے ڈھونڈتے پھر رہے ہوں۔ اتنا موقع تو وہ دیں گے نہیں کہ میں اپنے صحافی ہونے کا رعب ان پر ڈال سکوں۔ ہر رات گھر پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔بچے جوان ہو گئے ہیں ، دن میںمصروفیت کے باعث انہیں بھی سڑکوں پر رواں رہنا ہوتا ہے۔ بار بار پوچھتا ہوں کہ کہاں ہو، خیریت تو ہے نا۔اگر بچے فون کا جواب نہ دیں تو جب تک جوابی کال نہ آجائے خون خشک رہتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایسی صورتحال سے دوچار رہا ہے جہاں یہ فکر ضرور ہوتی تھی کہ کہیں کوئی بم دھماکہ، دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے، احتیاط کس طرح کی جائے۔ لیکن دہشت گرد تو دشمن تھے ان سے کیا بعید ہو سکتا ہے۔پولیس یا انسداد دہشت گردی فورس تو دشمنوں کی نہیں ہے وہ تو دہشت گردوں سے عوام کو تحفظ دینے کے لئے بنائی گئی ہے۔لیکن یہ کیا کہ وہی عوام کی جانوں کے درپے ہو گئی۔ خدا کرے ساہیوال جیسا واقعہ دوبارہ نہ ہو لیکن اس واقعے نے ہمارے نظام سے عوام کو انتہائی خوفزدہ کر دیا ہے۔انتہائی اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اس سے پہلے بھی اس نظام میں عام لوگوں کے لئے خوف کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ زمین پر قبضہ ہو جانے کا خوف، اغواءبرائے تاوان کا خوف، ڈاکے کا خوف، پولیس کے ہاتھوں رسوائی اور پولیس مقابلے کاخوف۔ایسی فورس جو عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے بنائی گئی وہی عوام کے جان و مال کی دشمن ہو گئی ہے۔
ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پولیس کی چھترول تو مشہور تھی کہ انکے ہاتھ کوئی ملزم آ جاتا تو پھراسے کردہ نا کردہ سارے جرائم کا اعتراف کئے ہی بنتی تھی۔ شور کوٹ میں ہمارے سکول کے سامنے تھانہ تھا۔ تفریح یا چھٹی کے وقت اسکے سامنے والے دالان میں اکثر پولیس والے ایسے کسی ہاتھ آئے مرغے کی گوشمالی کر رہے ہوتے تھے اور سکول کے بچوں کے لئے یہ ایک مرغوب تفریح ہوتی تھی۔ لیکن اس دور میں ماورائے عدالت قتل یا پولیس مقابلے کی لت پولیس کو نہیں پڑی تھی۔ ویسے بھی اسکی تاریخ بہت پرانی نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور خصوصاً میاں شہباز شریف کی حکومت سے پہلے اس بارے میںشاذونادر سننے میں آتا تھا لیکن پھر عابد باکسر نامی شخص پولیس افسر بنا اور پولیس مقابلے روزانہ کا معمول بن گئے۔اس زمانے میں اسلام آباد میں صحافت کا آغاز کر چکا تھا۔ وفاقی دارالحکومت میں اس بارے میں اتنی تشویش نہیں محسوس ہوتی تھی لیکن جب کبھی لاہور کے دوستوں سے ملاقات یا گپ شپ کا موقع ملتا تو اس بارے میں بہت تشویش کا شکار دکھائی دیتے کیونکہ اس کی آڑ میں بہت سے ذاتی دشمنیوں کے بدلے بھی لئے جا رہے تھے اور کسی کو ہمت نہیں تھی کہ اس بارے میں سوال کر سکے۔ جنرل مشرف کے دور میں اس بارے میں نوٹس لیا گیا اور شہباز شریف اور عابد باکسر اس بارے میں جوابدہی کے قابل ٹھہرے لیکن ہوا کچھ نہیں کہ جنرل مشرف نے شریف خاندان کو سعودی عرب پناہ لینے کی اجازت دے دی اور معاملہ ٹھپ ہو کر رہ گیا گزشتہ دو سالوں سے اس بارے میں پھر ہنگامہ ہوا لیکن ابھی تک معاملہ کسی طر ف جاتا دکھائی نہیں دے رہا۔ انسانی جانوں کے ضیاع کا یہ معاملہ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔پولیس مقابلے میں بے گناہ ہلاکتوںکامعاملہ گزشتہ سال ایک بار پھر بڑے زوروشور سے اٹھا جب نقیب اللہ محسود کا قتل ہوا اور ہر سندھ حکومت کے چہیتے راﺅ انوار کے قصے کھلنے لگے۔ اب تو رپورٹ بھی آ گئی ہے کہ وہ اس ماوارئے عدالت قتل میں ملوث ہے۔ عابد باکسر اور راﺅ انوار کے معاملے میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ انکے حمایتی انہیں دہشت گردوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار قرار دیتے ہیں۔ اور یہ ہتھیار اس وقت تیار کرنے شروع کئے گئے جب حکومتوں اور اداروں کو فرقہ وارانہ دہشت گردی اور کراچی میںسیاسی مخالفین کے قتل عام کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے قانون کاراستہ مشکل نظر آیا۔نظام کو چلانے کے لئے ایک ایسے راستے کو منتخب کیا گیا جس میں راﺅ انوار اور عابد باکسر تو پیدا ہوتے رہیں گے لیکن قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہو پائے گی۔ پولیس مقابلہ ہی نہیں بلکہ پولیس کی تحویل میں تشدد سے اموات ہوتی آ رہی ہیں۔ اس بارے میں جب عدلیہ نے نوٹس لینا شروع کیا توپولیس والوں نے اپنے پرائیویٹ سیف ہاﺅسز قائم کر لئے جہاں پر انسانیت سوز تشدد کیا جاتا ہے اور آئے دن آپ لواحقین کی فریاد سنتے ہونگے کہ انکے کسی عزیز کی پولیس تشدد سے موت واقع ہو گئی ہے جس کو کور اپ کرنے کے لئے پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کی مدد کو نکل پڑ تی ہے۔اس ماہ صرف فیصل آباد میں دو زیر تحویل ملزمان کی ہلاکت ہو چکی ہے۔تھانے عام عوام کے لئے نو گو ایریاز بن چکے ہیں اگر کسی کو کام بھی پڑ جائے تو سو مرتبہ سوچتا ہے کہ جائے کہ نہ جائے۔ اگر مجبوراً جانا بھی پڑ جائے تو تھانے کے اندر داخل ہونا اور متعلقہ عملے تک رسائی ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ایک خاص قسم کے ماحول میں رہتے رہتے پولیس کا ایک خاص مزاج بن چکا ہے۔عام عوام کے لئے انکے دلوں میں احترام اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔جب با اثر سیاستدان اور افسر اپنی مرضی سے انکی تعیناتیاں کرینگے تو عوام سے زیادہ انکی خوشنودی اہم ہو گی۔ اسکے تدارک کا راستہ پولیس کو مکمل غیر سیاسی بنانا،اداروں کا استحکام، انکی عوام کے نظر میں پختہ ساکھ، پیشہ ور پولیس فورس اور موثر عدالتی نظام ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleریڈیو ملتان اور عثمان بزدار۔۔ظہوردھریجہ
Next Article روحی بانوانتقال کر گئیں یا لاپتہ کر دی گئیں ؟ خاور نعیم ہاشمی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)

ستمبر 15, 2026

پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا

ستمبر 14, 2026

عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ستمبر 14, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2) ستمبر 15, 2026
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا ستمبر 14, 2026
  • عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 14, 2026
  • موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف ستمبر 14, 2026
  • ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1) ستمبر 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.