نئی دہلی : بھارتی کابینہ نے انڈین سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گرودوارہ دربار صاحب تک انڈین یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔پاکستان نے انڈین کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک میں امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے اور پاکستانی وزیراعظم رواں ماہ ہی کرتارپور میں راہداری کے حوالے سے کام کا افتتاح کریں گے۔جمعرات کو کابینہ کے اجلاس کے بعد نئی دہلی میں صحافیوں کو تفصیل بتاتے ہوئے انڈین وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے بتایا کہ حکومت انڈین پنجاب کے ضلع گروداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی سرحد تک راستہ تعمیر کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ راستہ بنانے کا مقصد ان انڈین یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو پاکستانی علاقے میں دریائے راوی کے کنارے واقع گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔انڈین کابینہ کی جانب سے خصوصی کاریڈور تعمیر کرنے کی منظوری کے بعد کرتارپور سرحد کھلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکومت پہلے ہی سکھ یاتریوں کے لیہ سرحد کا یہ حصہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے۔پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے ہی انڈیا کو بابا گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے حوالے سے کرتارپورہ راہداری کھولنے کے فیصلے سے آگاہ کر چکا ہے۔انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 28 نومبر کو کرتارپورہ میں اس حوالے سے کام کا افتتاح کریں گے۔انھوں نے اس موقع پر پاکستان میں مقیم سکھ برادری کو مدعو بھی کیا کہ وہ کرتارپورہ آئیں اور اس تقریب میں شریک ہوں۔اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے انڈین حکومت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین کابینہ کی جانب سے کرتارپور سرحد کھولنے کے حوالے سے پاکستانی تجویز کی تائید دونوں ممالک کی امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایسے اقدامات سے سرحد کی دونوں جانب امن اور دانائی کی باتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

