الیکشن کمشن کی نااہلی، غلط بیانی، معلوم اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر قومی انتخابات مکمل طور پر متنازع ہو چکے ہیں۔ ایک جماعت پی ٹی آئی کے علاوہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں نے ایک گرینڈ الائنس کے تحت پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ سے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ متوقع وزیر اعظم عمران خان اور متوقع حکمران جماعت پی ٹی آئی کو ملکی پارلیمانی تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن سے پالا پڑنے والا ہے۔ اب فاسٹ باؤ لر کپتان نیازی کی بیٹنگ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے فاسٹ باؤ لر اچھے بیٹس مین نہیں ہوتے۔ بس ایک آدھ چھکا چوکا لگا کر پویلین واپس آجاتے ہیں۔
الیکشن میں کس قدر دھاندلی ہوئی، کیا منصوبہ بندی کے تحت ریاستی ادارے منظم دھاندلی میں ملوث تھے یا مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے چند نشستوں پر دھاندلی کی گئی۔ یا دھاندلی ہر گز نہیں ہوئی کیونکہ الیکشن نتائج میں تاخیر کی وجہ نئے سسٹم آر ٹی ایس کی ناکامی تھی۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ ” نادرا“ نے الیکشن کمشن کے دعووں کی قلعی کھول دی۔ نادرا نے الیکشن کمشن کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ آرٹی ایس سسٹم نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ بلکہ نادرا نے یہ کہا کہ آر ٹی ایس سسٹم مکمل فعال تھا اور بغیر کسی رکاوٹ چلتا رہا۔ نادرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے ملک سے پچاس فیصد نتائج موصول ہو نے کے بعد الیکشن افسروں نے نتائج بھیجنا بند کر دیئے ۔ مراد یہ ہے کہ نادرا کو ملک بھر سے پچاس فیصد انتخابی نتائج پر مبنی فارم 45 موصول ہونے کے بعد مزید فارم 45 ملنا بند ہو گئے۔
شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آر ٹی ایس سسٹم کا استعمال روکنے کا وہی وقت تھا جب سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو بغیر فارم 45نتائج فراہم کئےگئے اور پولنگ بوتھوں سے باہر نکال دیا گیا۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن افسروں نے الیکشن کمشن کے حکام کی ہدایات کے بعد آر ٹی ایس سسٹم کا استعمال بند کر دیا جبکہ سسٹم بغیر کسی خرابی مکمل فعال تھا۔
اس کے بعد ملک بھر سے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے دھاندلی کے ایک جیسے الزامات کی بھر مار کر دی۔ تقریباً سب سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو مستند انتخابی نتائج یعنی فارم 45 فراہم کئے بغیر پولنگ بوتھوں سے باہر نکال دیا گیا۔ فارم 45 کی فراہمی کا تعلق آرٹی ایس سسٹم سے صرف اتنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد فارم 45 پر نتائج لکھ کر موبائل فون سے اس فارم کی تصویر الیکٹرونک سسٹم آر ٹی ایس کے ذریعے فارورڈ کی جاتی ہے۔ یاد رہے آر ایم ایس یعنی ریزلٹ مینیجمنٹ سسٹم الیکشن کمشن کا ایک علیہدہ سسٹم ہے جس کا کام آرٹی ایس سسٹم سے موصول ہونے والے فارم 45 کے نتائج کو جمع کرنا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
1۔ الیکشن کمشن کے عہدیداروں نے الیکشن افسروں کو آرٹی ایس سسٹم استعمال کرنے سے کیوں اور کس وقت منع کیا؟
2۔ آرٹی ایس سسٹم فعال ہونے کے باوجود اس کا استعمال کیوں بند کیا گیا؟
3۔ چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمشن کو دروغ گوئی سے کیوں کام لینا پڑا کہ آر ٹی ایس سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔
3۔ سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو انتخابی نتائج یعنی فارم 45 فراہم کیوں نہیں کئے گئے؟ انہیں پولنگ بوتھوں سے کیوں نکالا گیا؟
4۔ نادرا کو موصول نہ ہونے والے بقیہ پچاس فیصد نتائج یعنی فارم 45 کہاں اور کس کی نگرانی میں مرتب کئے گئے؟
5۔ بغیر نتیجہ کے ووٹوں کے تھیلے الیکشن کمشن کے علاوہ کس ادارے کی تحویل میں رہے؟
ان ایشوز کی پارلیمانی اور عدالتی تحقیقات کے ذریعے حقائق کو سامنے لائے جانے کی ضرورت ہے۔ تحقیقات کے سامنے آنے تک جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے عمران خان کو اکثریتی پارٹی کے لیڈر کی حثیت سے حکومت تشکیل کرنے کا حق دیا جانا چاہے۔ اپوزیشن نے پارلیمان میں جانے کا اعلان کر کے عمران خان اور پی ٹی آئی کا یہ حق تسلیم کر لیا ہے۔
عمران خان کے امتحان کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ ان کو وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی سچائی جاننے کے لئے سنجیدہ اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ قومی یکجہتی، جمہوری نظام کے تسلسل، سیاسی استحکام اور وسع تر قومی مفاد میں اپوزیشن کے مشورے سے ایک پارلیمانی کمشن کے علاوہ ایک جوڈیشل کمشن کے قیام کا اعلان کرنا چاہیے۔ تاکہ سچائی عوام کے سامنے آ سکے۔
عمران خان کو ذہن نشین کر لینا چاہے کہ اب ان کا کام وکٹ اڑانا نہیں بلکہ اپنی وکٹ بچانا ہے۔ کپتان سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ بیٹنگ کرتے وکٹ بچانا، فاسٹ باؤ لنگ کے ذریعے وکٹ اڑانے سے بڑا مختلف ہوتا ہے۔
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

