فجر کی نماز میں نے اپنے محلے کی مسجد میں ادا کی۔
اس کے بعد نواحی بستی چلا گیا۔
وہاں دیوی کے مندر میں ماتھا ٹیکا۔
اس کے بعد قریبی قصبے کا رخ کیا۔
وہاں ایک عبادت گاہ میں آگ کو سجدہ کیا۔
اس کے بعد آبائی گاؤں پہنچا۔
صوفی بزرگ کی قبر کو بوسہ دیا۔
اس کے بعد شہر واپس آیا۔
مقامی فرعون کے دربار میں پیش ہو کر اس کے پاؤں چومے۔
شام کو ڈوڈو نے پوچھا،
’’سچ سچ بتاؤ، تم کس کے پجاری ہو؟‘‘
میں نے اپنی آستین میں سے کرسی دیوتا کا بت نکال کر دکھایا۔
بشکریہ ( روزنامہ جنگ)
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

