اسلام آباد: نگراں حکومت کے دوران حکومتی امور چلانے کے لیے نگراں وفاقی کابینہ کے 6 اراکین نے حلف اٹھالیا۔حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر میں ہوئی جہاں صدرِ مملکت ممنون حسین نے نگراں کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔اس تقریب میں نگراں وزیرِاعظم جسٹس (ر) ناصر المک سمیت اعلیٰ شخصیات نے بھی شرکت کی۔نگراں وفاقی کابینہ میں محمد اعظم خان، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون، محمد یوسف شیخ، مسز روشن خورشید، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر اور بیرسٹر سید علی ظفر شامل ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ عبداللہ حسین ہارون کو وزارتِ خارجہ، ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارتِ خزانہ اور سید علی ظفر کو وزارتِ قانون کا قلمبدان سونپا جائے گا۔عبداللہ حسین ہارون اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب تعینات رہے ہیں، انہوں نے 2008 سے 2012 تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ایس ایم ظفر کے صاحبزادے بیرسٹر سید علی ظفر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ڈاکٹر شمشاد اختر سابق گورنر اسٹیٹ بینک ہیں جنہوں نے 2006 میں 14ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، اور تین سال تک اس عہدے پر فائز رہیں۔یاد رہے کہ 31 مئی کو گزشتہ حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد رواں ماہ یکم جون کو جسٹس (ر) ناصرالملک نے نگران وزیراعظم کا حلف اٹھایا تھا۔نگراں وزیرِاعظم اور ان کی وفاقی کابینہ 25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد منتخب حکومت کے قیام تک اپنے عہدوں پر فائز رہیں گے۔
بدھ, جولائی 29, 2026
تازہ خبریں:
- بی اے جمال : ملتان کی ثقافتی دنیا کا شہزادہ جو اپنی ذات میں انجمن بھی تھا ، ادارہ بھی : محمود احمد چوہدری کی یاد نگاری
- پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ ہار رہا ہے۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پیٹرول ایک روپے لیٹر سستا کرنے کے بعد اگلے ہی روز ایک روپے 63 پیسے کا اضافہ
- سابق وفاقی وزیر ، ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی ساتھی ملک مختار احمد اعوان انتقال کر گئے
- نام نہاد عرب بہار اور بھارتی سی جے پی کی کامیاب تحریک : نصرت جاوید کا کالم
- رضا علی عابدی کے درِ دل پر دستک : شاکر حسین شاکر کا کالم
- ظریف احسن نے عمر بھر خود کو شعر و ادب کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا
- راولا کوٹ میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت ہوئی : جوائنٹ ایکشن کمیٹی ۔۔ پولیس کا تصدیق سے گریز
- یہ کسی کی ہار جیت نہیں ۔ جنگ بند رہنا ضروری ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم

