ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے کو 18سال بیت گئے ۔یہ حادثہ 10جولائی 2006ءکو اس وقت پیش آیاجب ملتان ایئر پورٹ سے فوکرطیارے نے 45مسافروں کے ہمراہ اڑان بھری اورچند ہی لمحوں کے بعد 400فٹ کی بلندی پرجاکر وہ سورج میانی کے ایک کھیت میں جاگرا۔اس طیارے میں جسٹس نذیر صدیقی ،جسٹس نواز بھٹی ،وائس چانسلر زکریایونیورسٹی ڈاکٹرنصیر احمد خان ،زرعی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام گل ،نامور نیورو سرجن ڈاکٹرافتخار علی راجہ ،بریگیڈیئر آفتاب احمد ،پروفیسر عبدالرﺅف اوردیگر افراد شامل تھے ۔تحقیقات میں اسے انجینئرنگ شعبے کی غفلت اورپائلٹ کی غلطی قرار دیاگیاتھا۔حادثے کے بعد کسی افسر یاملازم کو سزانہ ہوئی تھی۔معروف صحافی جمشید رضوانی اس حادثے کے بعد سب سے پہلے جائے وقوعہ پرپہنچے تھے ۔اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے جمشید رضوانی نے کہاکہ افسوس اس بات پرہے کہ اس حادثے سے کسی نے سبق نہیں سیکھا ۔22مئی 2020ءکو کراچی میں عید کے موقع پرایک مسافر طیارہ آبادی پرجاگراتھااس کی تحقیقات میں بھی بتایاگیاتھاکہ حادثہ پائلٹ کی غلطی کے باعث پیش آیا۔ملتان حادثے کے بعد جائے حادثہ پر شہداءکی یاد گار بنانے کااعلان کیاگیاتھالیکن افسوس کہ یہ یاد گاربھی نہ بن سکی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں یہ خبربھی سامنے آئی کہ پاکستانی پائلٹوں کے طیارہ اڑانے کے لئے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا خود سول ایوی ایشن کاسابق ڈائریکٹر خود ایک کان سے بہرا تھا۔
فوکر حادثے کی 18ویں برسی ،ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا ،آج تک کسی ذمہ دار کو سزانہیں ملی:جمشیدرضوانی
ایڈیٹر5 Views

