اپنے موضوع پر بات کرنے سے پہلے اہل اسلام کو ماہِ مبارک رمضان الشریف کی مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مہنگائی پر کنٹرول ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور روزہ داروں کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے اور اب اپنے موضوع کی طرف آتے ہوئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی علاقے میں تقریبات اُس کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی صورتحال کا عکس ہوتی ہیں۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح وسیب میں بھی کوئی دن ایسا نہیں جہاں تقریبات منعقد نہ ہوئی ہوں۔ میں چند تقریبات کا حوالہ پیش کر رہا ہوں تاکہ وسیب کے مسائل کا ادراک ہو سکے۔ اس سلسلے میں پچھلے دنوں ملتان میں سرائیکستان صوبہ محاذ کی طرف سے کسان کانفرنس منعقد ہوئی اس موقع پر رہنمائوں نے کہا کہ وسیب کا کاشتکار طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ حال ہی میں وسیب میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری سے لاکھوں ایکڑ گندم اور ہزاروں ایکڑ آم کے باغات تباہ ہو گئے، نقصان کا اندازہ 20 ارب سے زائد ہے۔ حکومت کاشتکاروں کو معاوضہ ادا کرے اور ریلیف پیکج دے۔ ملتان ، ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ نقصان کی ذمہ دار حکومت ہے کہ محکمہ موسمیات بروقت آگاہ کرنے سے ناکام رہا حالانکہ آج کے جدید دور میں یہ ناممکن نہیں ہے۔ ہماری ہزار اپیلوں کے باوجود کاشتکاروں کے لئے انشورنس پالیسی نہیں بنائی گئی۔ طوفانی بارشوں اور ژالہ باری سے گندم کی وہ فصل تباہ ہوئی جسے وسیب کے کسانوں نے اپنے خون جگر سے کاشت کیا تھا کہ وسیب میں گزشتہ ماہ سے نہری پانی بند ہے اور کسانوں نے ادھار پر مہنگے داموں ٹیوب چلائے۔ اس تباہی سے آئندہ گندم کی فصل بھی متاثر ہو گی کہ کاشتکاروں کے پاس کپاس کی کاشت کیلئے وسائل نہیں حکومت فوری طور پر کاشتکاروں کو ریلیف دے۔ گزشتہ شب سرائیکی عوامی اتحاد اور شعراء حقوق کونسل کی طرف سے گلستان جوہر کراچی میں سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی کانفرنس کے میزبان کریم خان بلوچ اور فیصل خان کھرل نے کہا کہ کراچی انٹرنیشنل سٹی ہے ہم کانفرنس کے ذریعے حکمرانوں کو صوبہ کا وعدہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ صوبہ نہ ہونے کی وجہ سے وسیب کے لوگ معاشی ابتری کا شکار ہیں اور وسیب کے40 لاکھ افراد کراچی میں کسمپرسی کے دن گزرانے پر مجبور ہیں ۔ کانفرنس کے صدر بندہ نا چیز نے کہا کہ صوبہ وسیب کے کروڑوں افراد کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی ضرورت ہے کہ صوبہ نہ ہونے کی وجہ سے وفاق پاکستان عدم توازن کا شکار ہے کہ 62 فیصد آبادی کا ایک صوبہ ہے اور 38 فیصد کے تین صوبے ہیں ۔ پارلیمانی نظام میں بدترین مذاق ہے۔ چولستان بچائو تحریک کی طر ف سے خان پور میں سانحہ ہیڈ راجکاں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے سربراہ راشد عزیز بھٹہ و دیگر نے کہا کہ وزیراعلیٰ وزیراعظم وسیب سے تعلق ہونے کے باوجود مظلوموں کوانصاف نہ ملے تو اس سے بڑھ کرظلم کیا ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہایک وفاقی وزیر کوکوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ دو صوبوں کی قراردادیں پیش کریں،یہ صوبہ بنوانے کیلئے نہیں بلکہ صوبے کا مقدمہ خراب کرنے کے لئے ہے، ہمارا مطالبہ ایک صوبے کا ہے۔ مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن جان بوجھ کر صوبہ کی جدوجہد کیخلاف سازشیں کر رہی ہیں مقامی لوگوں نے وفاقی وزیر کے بزرگوں کو بھائی سمجھ کر عزت دی تھی لیکن وزیر اور اس کا خاندان چولستان کی زمینوں پر مسلسل قبضے کر رہا ہے ۔ تحریک انصاف کے دور میں وسیب کے ساتھ ظلم بڑھ گیا ہے، مقامی افراد کا عرصہ حیات تنگ کیا جار ہا ہے ، تحریک انصاف ق لیگ سے بلیک میل ہوکر کھسیانی بلی بنی ہوئی ہے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سرائیکی ایکشن کمیٹی پاکستان کے مرکزی چیئرمین اور چولستان بچائو تحریک کے سربراہ راشد عزیز بھٹہ نے کہا کہ سانحہ ہیڈراجکاں انتہائی افسوسناک ہے اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ہیڈراجکاں کے متاثرین کو ملنے کیلئے کوئی حکومتی یا اپوزیشن کا ایم این اے ، ایم پی اے نہیں آیا۔ جھوک سرائیکی کی طرف سے ڈی جی خاں میں دو روزہ ادبی و ثقافتی تقریبات منعقد ہوئیں۔ تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئے کمشنر ڈی جی خاں اظفر ضیاء نے کہا کہ آج میں سرائیکی ثقافت کے رنگ دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوںاس میں کوئی شمار نہیں کہ سرائیکی ثقافت کا شمار دنیا کی بہترین ثقافتوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ سے ہم ہر طرح کی انتہاء پسندی اور دہشت گردی پر قابو پا سکتے ہیں۔ آج مقررین کے خطاب سے مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کہ تمام مقررین نے پاکستان سے اپنی بے لوث محبت کا اظہا رکیا اور اچھی بات ہے کہ اس کے ساتھ مقررین نے زبان و ثقافت کے ساتھ ساتھ محرومیوں کا بھی ذکر کیا اور واشگاف لفظوں میں کہا کہ ہمارا سب کچھ پاکستان ہے اور پاکستان کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کی ایم پی اے ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ نے کہا عمران خان صوبے کا وعدہ پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تین چار سالوں میں صوبہ بنا دیں گے۔ اس کے جواب میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ غازیخان کے صدر سردار یاسر علی خان کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے سو دن کا وعدہ کیا تھا نہ صرف یہ کہ وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ اس بارے ابھی تک کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوئی۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

