Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اکتوبر 15, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ
  • جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
  • ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
  • شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم
  • "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
  • کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی
  • ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
  • خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » وجاہت مسعود کا کالم : تعلیم یافتہ طبقہ ، تاریخ کا شعور اور شہری اشرافیہ
لکھاری

وجاہت مسعود کا کالم : تعلیم یافتہ طبقہ ، تاریخ کا شعور اور شہری اشرافیہ

ایڈیٹرمارچ 13, 202415 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
pti MNA resigns
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

قابل اجمیری اگست 1931 میں راجستھان کے قصبہ اجمیر میں پیدا ہوئے۔ بچپن درگاہ خواجہ معین الدین چشتی کے نواح میں گزرا۔ گوش سماعت کی تربیت کا سامان موجود تھا۔ فہم سخن کے مقامات طے کر رہے تھے کہ ملک تقسیم ہو گیا۔ قابل اجمیری لکیر کے اس طرف حیدر آباد میں آن آباد ہوئے۔۔ شعر کے ہنر کو سینچنے کی جستجو میں اکتوبر1962 میں وجود کی سرحد پار کر گئے۔ چھوٹی بحر میں بہت اچھا شعر نکالتے تھے۔ قابل اجمیری کا ایک شعرضرب المثل کا درجہ پا گیا۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں/ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ جو واردات ہمیں حادثہ معلوم ہوتی ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے پیچھے مفاد اور سازش کے دو رنگے دھاگوں سے بُنی گئی چادر کا پردہ ہوتا ہے۔ 5 مارچ 1946 کو یورپ کے آر پار کھنچے آہنی پردے کے بارے میں چرچل کی تقریر اتفاقی واقعہ نہیں تھا۔ اس کے پس پشت ماسکو میں امریکی سفیرجارج کینن کا فروری 46ء میں لکھا طویل تار تھا۔ اس تمثیل کے کچھ کردار جارج مارشل، جان فوسٹر ڈلس اور جوزف میکارتھی تھے۔ سرمایہ دار دنیا نے سرد جنگ میں پراپیگنڈے کی جو بساط بچھائی اس میں کچھ حصہ ڈاکٹر جارج گیلپ کا بھی تھا جس نے مئی 1947 میں گیلپ انٹرنیشنل کے نام سے رائے سازی کا ایک ادارہ قائم کیا۔ پراپیگنڈہ سچ اور جھوٹ کا ایک لطیف امتزاج ہوتا ہے جس کی ایک حالیہ جھلک ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ ٹروتھ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
دسمبر 1979 میں سوویت افواج کابل میں اتریں تو پاکستان میں ضیا آمریت کو گویا آکسیجن مل گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن، ضیا آمریت کے نفس ناطقہ تھے اور1977 کے موسم خزاں ہی میں نشریاتی اداروں کو ہدایت جاری کر چکے تھے کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں کھیلوں، مزاح نیز مذہبی تلقین کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا جائے۔ سیاسی موضوعات سے ہر ممکن گریز کیا جائے تاہم سیاسی عمل اور سیاست دانوں کی تضحیک پر پابندی نہیں ہو گی۔ جماعت اسلامی کے محمود اعظم فاروقی کی بطور وزیراطلاعات تقرری بھی اسی بندوبست کا حصہ تھی۔ اس دوران نیا نصاب تعلیم متعارف کرایا گیا جس میں مذہبی رنگ نمایاں تھا۔ سائنس، معیشت اور جغرافیے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مسخ شدہ تاریخ پر خصوصی زور تھا۔ ایک خاص اقدام یہ تھا کہ تعلیم کے شعبے کو ریاستی ترجیحات سے خارج کر کے نجی شعبے کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ 1980 میں خواندگی کی عالمی شرح 68 فیصد تھی جو اب 86.3 فیصد ہو چکی ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برس سے اٹھاون فیصد کی شرح خواندگی پر زلیخائی کر رہا ہے۔ (اس وقت دنیا کے 195 ممالک میں پاکستان تعلیم میں 133ویں درجے پہ ہے اور اس درجہ بندی میں تعلیمی معیار کی قدر پیمائی شامل نہیں)۔ اس پر طرہ یہ کہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ سیاسی جماعتیں کالعدم تھیں اور ہزاروں سیاسی قیدی بندی خانوں میں عقوبت جھیل رہے تھے۔ دلائی کیمپ کی داستانیں بیان کرنے والے صحافی خود ساختہ صدر پاکستان کے خطاب کی ’جھلکیاں ‘تحریر کر رہے تھے۔ محمد علی باکسر اور انوکی پہلوان کے مقابلوں کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل صفحہ اول کی خبر قرار پاتی تھی۔ یہ قوم کو سیاسی اور سماجی شعور سے محروم کرنے کا ہمہ جہتی منصوبہ تھا۔ جمہوری رجحان اور تاریخی شعور کی شہرت رکھنے والے اساتذہ اور صحافیوں کو تڑی پار کر دیا گیا تھا۔ پریس پر کڑی سنسر شپ تھی۔ اس صورتحال میں اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے 1980 میں ادارہ رائے عامہ پاکستان قائم کیا جس کا ایک ذیلی شعبہ گیلپ سروے تھا۔ اپنی زمین پر بسنے والے سادھارن عوام کے خلاف ایسی چہار طرفہ یلغار جس عرق ریزی سے مرتب کی گئی تھی اس سے آدھی توانائی قوم کی تعمیر پر صرف کی جاتی تو آج پچیس کروڑ کی قوم آئی ایم ایف کے دروازے پر کشکول نظر کھولے نہ بیٹھی ہوتی بلکہ زیادہ امکان تو یہ ہے کہ آبادی میں ایسا بے محابا اضافہ ہی نہ ہوتا۔ سادہ حساب یہ ہے کہ معیشت کی شرح نمو 1.5 فیصد ہو اور آبادی 2 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہو تو عوام کا معیار زندگی ترقی نہیں کر سکتا۔ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں یا وزیراعلیٰ ہاﺅس کی کسی تقریب میں کھانوں کی فہرست گنوانے سے معیشت کی حرکیات کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بجٹ میں آمدنی اور اخراجات کے کلیدی اشاریے دیکھنا ہوتے ہیں۔
گیلپ پاکستان نے اپنے تازہ سروے میں بتایا ہے کہ حالیہ انتخابات میں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی بجائے تحریک انصاف کو زیادہ ووٹ دیے ہیں۔ بے شک یہ رائے درست ہے لیکن گیلپ سروے ہمیں یہ نہیں بتا رہا کہ پاکستان میں یونیورسٹی گریجوایٹ آبادی کی شرح دس فیصد سے کم ہے۔ نیز یہ کہ نام نہاد تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ماں باپ ستر کی دہائی سے قومی شعور کو مسخ کرنے کی پالیسی کا شکار چلے آتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی تاریخ رکھنے والی جمہوری قوتوں کے لیے ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ طبقے کی حمایت سیاسی شعور کا نتیجہ تو نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ تو ان طبقات کا بااثر افراد کے ہاتھوں بے دست و پا ہونا ہے۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ یہ ’تعلیم یافتہ طبقہ ‘جو عمران خان صاحب کے سیاسی بیانیے کی حمایت کرتا ہے، کیا یہ وہی شہری اشرافیہ نہیں جس نے پرویز مشرف کا خیر مقدم کیا تھا۔ کیا ان تعلیم یافتہ نوجوانوں نے طالبان کے خلاف آواز اٹھائی۔ کیا عمران اسماعیل، فیصل واؤڈا اور علی زیدی نے اپنے شہر کراچی کے ساتھ زبان کے نام پر تیس برس تک مجرمانہ کھلواڑ کی مزاحمت کی۔ کیا یہ ’تعلیم یافتہ طبقہ‘ فرقہ وارانہ جماعتوں کے خلاف کھڑا ہوا۔ کیا اس طبقے نے سوال کیا کہ کینیڈا سے تشریف لانے والے مذہب فروش نے 2018 سے 2022 تک ماڈل ٹاﺅن کے شہیدوں کے لیے انصاف کیوں نہیں مانگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد تعلیم یافتہ طبقہ کل بھی غیر جمہوری سوچ رکھتا تھا اور آج بھی غیر جمہوری طور طریقوں سے سیاسی اقتدار میں اپنا حصہ مانگتا ہے۔ تعلیمی اسناد کے نام پر ان کے ہاتھوں میں تھامے کاغذ کے ٹکڑوں پر نہ جائیے۔ یہ تعلیمی اہلیت اور تاریخی شعور میں خلیج کا سوال ہے۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی عائد
Next Article ڈاکٹر علی شاذف کا طبی کالم : فنگس زدہ محرابوں والے خیراتی لٹیرےاور کینسر زدہ بچے
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی

اکتوبر 14, 2026

زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ

اکتوبر 14, 2026

جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اکتوبر 14, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی اکتوبر 14, 2026
  • زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ اکتوبر 14, 2026
  • جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 14, 2026
  • خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی اکتوبر 13, 2026
  • ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی اکتوبر 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.