Browsing: یاسر پیرزادہ

ہم نے اپنے فون کو وہ تمام اجازتیں رضاکارانہ طور پر خود دے رکھی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ ہمارا کچا چٹھا جانتا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ چیٹ بوٹ ہیں۔ ہم اُنہیں وہ باتیں بتا رہے ہیں جو بیوی، دوست، ڈاکٹر یا وکیل کو بھی نہیں بتاتے۔ کوئی اپنی بیماری کی علامات لکھ رہا ہے، کوئی گھریلو جھگڑے کی تفصیل اور کوئی محبوبہ کے نام پیغام۔ کئی صدیاں پہلے یہ کام کلیسا میں پادری کے سامنے ہوتا تھا، مگر وہاں پادری کم از کم آپ کے اعترافات لکھ کر محفوظ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اگلی صبح آپ کو گناہوں سے متعلقہ اشتہار بھیجتا تھا۔

اس کی ارمغانی پگڑی کے نیچے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ اس نے ایک نظر صدیقہ کو دیکھا، ایک نظر گوپال کے جتھے کو اور اس کی نگاہیں زمین میں گڑ گئیں۔ اس میں گوپال سے بھڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ کبھی نہیں تھی۔ اس کے قدم آپ ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے۔

اللہ نے چونکہ حسن بہت دیا ہے اِس لیے آٹھ بج کر چھ منٹ پر اپنی نظر بھی اتارتا ہوں، اور سب سے بڑا ہنر جو میرے پاس ہے اور جس پر آج تک میں نے غرور نہیں کیا وہ یہ کہ میں تیس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنے جوتوں کے تسمے بند کر سکتا ہوں۔
یہ تکنیک مجھے روانڈا کے ایک قصبے مائی پھیرو کی ایک لڑکی نے سکھائی تھی،

مسئلہ یہ ہے کہ مولوی نے ہمیں یہ بتایا ہوا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے لہذا آبادی کنٹرول کرنا یا بچے کم پیدا کرنا دینی احکامات کے خلاف ہے۔ اِس سوچ نے پاکستان کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسکولوں میں جگہ نہیں، ہسپتالوں میں بستر نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، لیکن غریب کی جھونپڑی میں آٹھواں بچہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔

ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔

اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔