ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹرمسعود پزشکیان کل جب امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کے بعد پاکستان آئے تو یہ معمول سے ہٹ کر دورہ تھا۔بے شک…
Browsing: ایران
پاکستان سے محاورے والی ’’بی فاختہ‘‘ جیسی مشقت کروالینے کے بعد امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ ’’ڈائریکٹ‘‘ ہوگئے ہیں اور ہمیں استعمال کرنے کے بعد بھلادیا گیا ہے۔
جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََبعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پرآپ کادل جس طرح خون کے آنسورورہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیر،اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریرتیارکرتے رہے اوروہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔آپ سفرکی صعوبتوں کوبخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں گے لہذاآپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیاتویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔یقیناََانتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔
امن پر اتفاق کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی، اختلافات اور حتمی معاہدے کےبارے میں نقطہ نظر کا فرق موجود ہے۔ گزشتہ چند روز…
ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔
تہران میونسپیلیٹی کے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر پاکستان، افغانستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی لوگوں کی آمد متوقع ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اس تصویر کا یہ رخ بھی مضحکہ خیز ہے کہ ایران آزادانہ فیصلے کرنے کا جو حق اپنے لیے مانگتا ہے، ہمسایہ عرب ممالک کو وہی حق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کے بعد سے ایران نے خلیجی و دیگر عرب ممالک کے خلاف غیرعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ اس نے خاص طور سے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ اردن اور عمان پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
