Browsing: سید مجاہد علی

پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے سربراہی اجلاس کی جو ابتدائی تصویر شائع کی، اس میں بھارتی وزیر اعظم کی تصویر کاٹ دی گئی تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس پر تبصروں اور حرف زنی کے بعد میں مکمل تصویر جاری کی گئی۔ اس قسم کا طرز عمل سردمہری اور فاصلوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے حالانکہ بوجوہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور باہمی تعلقات میں حائل دیواریں گرانے کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کی بجائے حکومت اور اس کے نمائندوں نے اس سوال پر سیاست کی اور ہر لحظہ بدلتے بیانات کے ذریعے پورا ہفتہ بے یقینی کی فضا قائم رکھی۔ اس کا نقصان بنیادی طور پر حکومت ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن کسی سرکاری سیاسی عہدے دار میں اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔

اگر مذہب کو سیاسی ہتھکنڈا بنا کر اسے آمرانہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا تو تناؤ، پریشانی، بداعتمادی اور بے یقینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر لوگ پاکستان سے محبت کرنے کی بجائے، وہاں سے بھاگنے کے راستے تلاش کریں گے۔ جنہیں یہ راستہ نہیں ملے گا، وہ تخریب کاروں کا آلہ کار بنیں گے۔

احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ حکومت عوام کی کثیر تعداد کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔

سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔

پاکستان اسی وقت سعودی عرب کی امداد کے لیے جاسکتا ہے اگر کوئی ملک یا گروہ براہ راست اس پر حملہ کرے۔ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوتے اور محض دھمکیاں دیتے ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اس معاہدے کے تحت حوثیوں کی طاقت کچلنے میں آگے بڑھے گا؟