Browsing: کالم

یہ کمرہ آپ کی بنائی ہوئی ترتیب کے ساتھ آج بھی آپ کی یادوں کے حوالے سے مہکتا ہے سامنے وہی وال کلاک ہے جو خراب ہو جاتا تو آپ اصرار کرتی تھیں اسے ٹھیک کراؤ یہ تمہاری خالہ نے اس گھر میں آنے پر تحفہ دیا تھا ۔۔ وہ کلاک اب نہیں چلتا ، خالہ کے جیون کی ساعتیں بھی باقی نہ رہیں تو کلاک کیا ٹھیک کرانا ۔ بس آپ کی محبت میں آویزاں رہے گا ۔

انہوں نے کہاکہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ملک بھر میں آتش بازی کا جال بچھادینگے ہر چھوٹی بڑی جگہ پر آتش بازی کے ماہرین روز رات کو آتش بازی کا اہتمام کیا کرینگے ، آتش بازی کوصنعت کا درجہ دیدیا جائے گا ،آتش بازوں کو حکومت سستے قرضے فراہم کرے گی، ہر تحصیل اور ضلع میں آتش باز افسر مقرر ہوگا ،چھوٹے انتظامی یونٹس میں آتش بازی کے فن کے فروغ سے ملک بھر میں ایکسپورٹ کوفروغ ملےگااور دنیا بھر میں آتش بازی کا سامان ملک سے ہی جایا کرے گا۔

ہم دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں، کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں اور اختلاف کے وقت ہمارا ظرف کتنا ہے۔ اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے؛ یہ بھی سوچیں کہ لوگ اسے پڑھ کر ہمیں کیسا انسان سمجھیں گے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم صرف الفاظ شیئر نہیں کرتے، اپنا کردار بھی شیئر کرتے ہیں۔

آج کے پاکستان میں بھی وفاقی اکائیوں میں اعتماد کا بحران، وسائل کی تقسیم، فیصلہ سازی میں شمولیت اور نادیدہ حکمران قوتوں میں غیر متناسب نمائندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی صورت مشرقی پاکستان میں تھی۔ سات کروڑ بنگالیوں پر چون ہزار کی نفری کیسے قابو پا سکتی تھی جبکہ لڑنے والا سپاہی مقامی زبان جانتا تھا اور نہ جغرافیے سے آشنا تھا۔

مسلم لیگ ن کو اس کھلبلی میں کوئی کلیئر پوزیشن لینی ہوگی، ورنہ پریشانیاں بڑھیں گی۔ عمران خان کو ملنے والا ریلیف فی الحال صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے اس عدالتی فیصلے کے پیچھے کسی سازش کی تلاش شروع کردی ہے۔ سینیٹر صاحب سے گزارش ہے کہ ہر جج کو ارشد ملک نہ سمجھیں۔ ہر جج کی ویڈیو نہیں بن سکتی۔

ہم نے متحدہ ہندوستان کے آخری دس برس میں جی توڑ کر مقدمہ لڑا، مقدمہ جیت گئے اور تاریخ ہار گئے۔ تاریخ کی اسی شکست کا تزلزل 1973 کے دستور کو روز اول سے مرتعش کیے ہوئے تھا۔ بظاہر ایک جمہوری حکومت دستور کے مطابق اپنی میعاد مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن کہیں کوئی تھا جسے صدارتی نظام حکومت اور قومی وسائل پر فرمان شاہی کے ذریعے قدرت مطلق کی آرزو مچلتی تھی۔

اللہ نے چونکہ حسن بہت دیا ہے اِس لیے آٹھ بج کر چھ منٹ پر اپنی نظر بھی اتارتا ہوں، اور سب سے بڑا ہنر جو میرے پاس ہے اور جس پر آج تک میں نے غرور نہیں کیا وہ یہ کہ میں تیس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنے جوتوں کے تسمے بند کر سکتا ہوں۔
یہ تکنیک مجھے روانڈا کے ایک قصبے مائی پھیرو کی ایک لڑکی نے سکھائی تھی،

حکومت کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ کوئی نسل ایسی بھی نمودار ہو سکتی ہے جو پولیس سے خود پوچھے انکل اگلا لاٹھی چارج کب کرو گے ، انکل آنسو گیس کا ایک گولا اور چلاؤ نا۔ انکل مزہ نہیں آ رہا دو چار لاٹھیاں اور مارو۔