اب لگتا یہ ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائی سلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟
منگل, ستمبر 15, 2026
تازہ خبریں:
- اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
