لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
