تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی ؒ کی قائم کردہ ایک اسلامی اصلاحی تحریک ہے،جس کی بنیاد انہوں نے 1926ء میں رکھی۔مولانا الیاس ؒ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو صدیوں سے خدمت دین کے حوالے سے پورے برصغیر بلکہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی جان پہچان رکھتا تھا۔مولانا کے خانوادے میں اپنے وقت کے جید علماء فضلاء اور صاحب کمال و غیر معمولی لوگ پیدا ہوئے،جنہوں نے فروغ دین میں اپنی پوری پوری زندگیاں کھپا دیں مگر اپنے مشن کے راستے کی کسی رکاوٹ،کسی دیوار کو خاطر میں نہ لائے۔یہاں تک کہ ان کے خاندان میں ایسی محرمات بھی گزریں جن کے تقویٰ اور شب بیداری کے چرچے رہے،جو فقط عبادت گزار ہی نہیں تھیں بلکہ علوم دینی میں مہارت رکھتی تھیں، حدیث تفسیر میں دسترس ان کا طرہء امتیاز تھا۔
مولانا الیاس کاندھلوی ؒ کے والد مولانا محمد اسمٰعیل ؒ اپنے دور کے صوفی اور ولی ء کامل گردانے جاتے تھے۔یہاں تک کہ ان کی والدہ بھی اپنے عہد کی متقی پرہیزگار اور پارسا خاتون تھیں،۔مولاناالیاس ؒ اسیرِ مالٹامولانا محمودالحسن ؒ کے تلمیذِ خاص تھے،تاہم تصوف کی بیعت انہوں نے مولانا رشید احمدگنگوہیؒ کے ہاتھ پر کی۔مولانا سلوک کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور ایک حقیقی صوفی تصور کئے جاتے تھے۔
کامل دینی تعلیمات اور تصوف کی منازل طے کرنے کے بعد انہوں نے اپنے گردوپیش پھیلتی بدعات،دین سے برگشتگی، عقائد کی گمرہی کو مٹانے کا بیڑہ اٹھایا،انہوں نے نگر نگر قریہ قریہ گھوم پھر کر دینی روایات کے مسخ ہوتے تشخص کی بحالی کے لئے دلجمعی اور پورے ارتکاز کے ساتھ کام کرنے کی ٹھانی۔انہیں اس بات کا بھی شدید قلق تھا کہ برصغیر میں خانقاہی نظام بری طرح زوال کا شکار ہے،دینی طبقات کے اندر مرکزیت کا فقدان فروتر ہوتا جارہا ہے،علم وعمل کے بیچ بُعدپیدا ہو رہا ہے اور خاص طور پر نوجوان دینی علوم سے بے بہرہ ہوتے جارہے ہیں،عام مسلمانوں میں بھی دین کی تڑپ باقی نہیں
رہی،مولاناالیاس ؒ نے محسوس کیا کہ مکاتب و مدارس کے مدارالمہام اور خانقاہوں کے گدی نشین بھی فکر دین کے فروغ میں گرم جوش نہیں بلکہ شرک و بدعات کی آبیاری میں مصروف ہیں۔
اس مقصد کے لئے انہوں نے دینی اسلامی تحریک کا ڈول ڈالا اور احیائے دین کے کام کا بیڑہ اٹھایا،لوگوں کے پاس جاجا کر ان کی منت سماجت کر کے مسجد کے ساتھ ان کے ٹوٹتے ہوئے تعلق کو نئے سرے سے جوڑا،انہوں نے تفرقہ بازی کی بجائے ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو،آپس میں باہم تفرقہ نہ ڈالو“ کی اساس پر دین سیکھنے سکھانے کی روش ڈالی،اس میں انبیأ علیہم السلام اور صحا بہ ؓ کا طریقہ کار اپنایا جس کے نتیجے میں عوام الناس میں بلا تفریق فرقہ ایک بڑاطبقہ ان کی حمایت اور دینی خدمات کے کام میں ان کے ساتھ چلنے پر تیار ہوا،جو آج بھی اپنے اخراجات پر اندرون ملک اور بیرون ملک جوق در جوق سفر کرکے دعوت و تبلیغ کے کام میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
1940 ء تک تبلیغی جماعت کا زیادہ تر دائرہ کار ہندوستان رہا،اس کا پہلا باقاعدہ اجتماع 1941 ء میں انڈیا میں ہوا جس میں پچیس سے تیس ہزار لوگوں نے شرکت کی،تبلیغی جماعت نے عام لوگوں کو دعوت سکھانے کے لئے چھ اصول یا چھ نمبر طے کئے ہوئے ہیں انہی کی روشنی میں یہ اپنا سارا کام انجام دیتی ہے،یہ اپنی مجلس شوریٰ کے تحت کام کرتی ہے تاہم پہلے پہل بین الاقوامی طور پر ایک امیر ہوتا تھا۔مولانا الیاس کاندھلوی ؒ اس کے پہلے امیر تھے،دوسرے محمد یوسف کاندھلوی ؒ اور تیسرے انعام الحسن کاندھلوی ؒتھے۔جن کے سانحہ ارتحال(1995 ء) کے بعد اس عہدہ سے متعلق اختلاف پایا جانے لگا تو شورائی نظام کی بنا ڈالی گئی جبکہ نظام امارت ترک کردیا گیا۔
مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت کے ایک انتہائی نابغہء روزگارکارکن ہیں،وہ نہ تو جماعت کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں نہ کسی اور ذمہ داری کا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے،بس وہ جماعت کے ایک متحرک رکن ہیں،ان کی زبان میں بلا کا لوچ اور اثر ہے جوبات کرتے ہیں اس ڈھنگ سے اور قرینے سے کرتے ہیں کہ سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے۔مولانا طارق جمیل گمرہی کے قعر مذلت میں ڈوبی امت مسلمہ کا مرثیہ پڑھنے کے لائق فائق ذاکر ثابت ہوئے ہیں،انہوں نے اپنے تبلیغی بیانات کے ذریعے تمام مکاتب فکر کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے،اہل سنت انہیں خطیب اعظم کا درجہ دیتے ہیں تو اہلِ تشیع سے انہوں نے سلطان الہند کا لقب پایا اور باقاعدہ دستار بندی ہوئی جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائیرل ہوئی۔
جس بات پر حیرت ہے وہ یہ ہے کہ معرض وجود سے اب تک تبلیغی جماعت کے کسی اکابر کی طرف سے حکومتی حلقوں میں جانے آنے کی خبر نہیں سنی تھی۔
مجھے مولانا کے ذاتی کردار سے کچھ غرض نہیں کہ ان کا جماعتی کردار ایک جہد مسلسل سے تعبیر ہے،جب تک وہ ایک تبلیغی کارکن کی فطرت پر رہے،عزت و احترام کے بے پناہ حامل رہے،اللہ نے انہیں شہرت دوام سے خوب خوب نوازا،مگر جب ان کے اندر اپنے منوائے جانے کی جبلت پیدا ہوئی،تو اکابر کی طرف سے متعدد بار سرزنش کے سزاوار ٹھہرے، لیکن اپنی اس جبلت پر قابو نہ پاسکے،اسی المئے کے پیش نظر انہیں موجودہ ناروا صورت حال کا سامنا ہے،کاش اپنی اس کجی کا انہیں بروقت احساس ہوجاتا،تو انہیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔
گئے گزرے دور میں بھی ہمارے معاشرے میں تبلیغی جماعت کی بہت تکریم ہے،اس تعظیم و تکریم کے بنانے میں اکابر نے بہت محنت کی اور یقیناََ اس محنت میں مولانا طارق جمیل کا بھی حصہ ہے۔انتہائی ادب و احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ مولانا کو کچھ عرصہ کے لئے عزلت نشینی اختیار کر لینی چاہئے،اسی میں ان کا وقار اور جماعت کی بہتری ہے۔
اتوار, نومبر 1, 2026
تازہ خبریں:
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ

