سیاست کے ساتھ صحافت کے بھی اپنے رنگ ہیں اولا ذکر کو ذات کے دائرے سے نکلنے کی فرصت نہیں تو دوسرا ”ٹرینڈ“کے چکر میں اپنی ”ریٹنگ“بڑھانے کیلئے نان ایشوز کو اس قدر ہائی لائٹ کردیتے ہیں کہ ناظرین اور قاری اس کے سحر سے نکل ہی نہیں سکتا،کیا بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی کے ملک میں محض ایک شخص کی گرفتار ی ہی موضوع بحث بن کر رہ گئی تھی جبکہ ملک بھر میں غیر معمولی بارشوں نے تباہی مچا رکھی ہے کراچی میں بارشوں اور اس کے اثرات و نقصانات معمولی واقعہ نہیں،شمالی علاقہ جات میں بارشوں کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصانات ابھی چل رہے ہیں کہ اس دوران کوہ سلیمان (دامان)میں شدید بارشوں کی وجہ سے رود کوہیاں بپھر گئیں جنہوں نے سینکڑوں سال کا ریکارڈ تو ڑدیا کچی کینال اور ڈیم کے ٹوٹنے سے راجن پور سے تونسہ تک پانی راستے میں آنے والی تمام بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا تا ہوا دریائے سندھ سے مل گیا جس سے دریا میں پانی کی مقدار پانچ لاکھ کیوسک سے بڑھ گئی جو اونچے درجے کے سیلاب کی علامت ہے ابھی یہ پانی جنوبی پنجاب کے علاقوں میں تباہی پھیلا رہا ہے یہی پانی اس سے زیادہ مقدار اور رفتار سے جب اندرون سندھ میں داخل ہوگا تو کیا حشر کرے گا اس کا تصور ابھی مشکل ہے۔
تونسہ،فاضل پور،سمیت سینکڑوں چھوٹی بڑی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں جو کبھی یہاں مکین تھے اب بے سرو سامانی کے عالم میں بیٹھے ہیں جانوروں کو تو انہوں نے قدرت کے رحم و کرم پر آزاد کردیا کیونکہ انہیں اپنے گھر اور سامان سے زیادہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جانیں بچانے کی فکر لاحق تھی ہزاروں خاندان برباد ہوچکے اربوں روپے کی فصلیں،قیمتی پالتو جانور اور املاک اس ناگہانی آفت کی نظر ہوچکے ہیں اور ابھی یہ تباہی جاری ہے کوئٹہ سے لورالائی اور فورٹ منرو کے راستے پچھلے پانچ دن سے بند ہیں (جب یہ تحریر لکھی جارہی تھی اس وقت تک)بار برداری اور مسافر ٹرانسپورٹ سمیت ذاتی گاڑیوں کی 25سے 20کلو میٹر لمبی لائن ہے کہ نہ واپسی کا راستہ ہے اور نہ آگے جانے کیلئے سڑک کھل سکی ہے اور اب حالت یہ ہے کہ ان علاقوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی شدید قلت ہورہی ہے اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کرنے والوں کو رہائش کیلئے کوئی جگہ درگار نہیں ہے اور اگر ہے تو وہاں پانی اور بجلی ناپید ہے۔یہی کچھ حال بلوچستان کا ہے کہ وہاں بالکل اسی طرح کی تباہی ہوتی ہے،تونسہ سے راجن پور اور بلوچستان تک سینکڑوں اموات ہوچکی ہیں خاندان کے خاندان اجڑ گئے ہیں،دیہات کے دیہات زمین کے برابر آگئے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق 10ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں لوگوں کو کھانا کھلانے والے خود ایک وقت کی روٹی کے محتاج ہوچکے ہیں ایسے علاقوں میں مویشی ان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں جو اب نہیں رہے سینکڑوں مربع میل کا علاقہ پانی سے ڈوبا ہوا ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن اس صورت حال کو مکمل نظر انداز کرکے اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔بے حسی کا ایسا منظر کبھی دیکھنے کو نہیں ملا یاں البتہ اب بھی ماضی کی طرح غیر سرکاری فلا حی تنظیمیں،مذہبی جماعتوں کے کارکن اور ان کے فلاحی ونگ پوری طرح متحرک ہیں اور محدود وسائل میں متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں اور حتی الوسع جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں وہاں بنیادی امداد پہنچا رہے ہیں بلوچستان میں اسوہ فاؤنڈیشن خصوصاًتحریک اللہ اکبر،جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن بہت متحرک ہے جبکہ اہل حدیث یوتھ فورس،رفاعی تنظیم انصار الاسلام اور تونسہ سے خاص طور پر مدارس کے طلباء ہمت و طاقت سے متاثرہ علاقوں میں مصروف ہیں جبکہ نجی طور پر مخیر حضرات بھی کارخیر میں خاموشی سے حصہ ڈال رہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے تاخیری پالیسیوں نے نقصان میں اضافہ کیا ہے ایسے بڑے نقصان سے بروقت اقدامات کرکے بچا جاسکتا تھا لیکن پیش بندی نہیں کی گئی جس کے باعث ایک بڑا انسانی المیہ وقوع پذیر ہونے کو ہے تاہم اب فوج نے امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں امیدکی جاسکتی ہے کہ مزید نقصان اور المیہ سے بچا جاسکے ۔
ادھر حکومت نے آئی ایم ایف کا ایک دیرینہ مطالبہ (شرط)تسلیم کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے اثاثوں تک عوام کو رسائی دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کیلئے الیکٹرانک ایسٹ ڈیکلریشن سسٹم قائم کیا جائے گا جس میں ارکان پارلیمنٹ،بیوروکریسی اور ملازمین کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی بتائی جائیں گی اس سلسلہ میں حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان تفصیلات عام کرنے کا لیٹر آف انٹینٹ(ایل او آئی)معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت ان کے اثاثوں کی تفصیلات تک عوام کو رسائی دی جائے گی جبکہ بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی الیکٹرانک ایسٹ ڈیکلریشن سسٹم کے تحت شفافیت اور احتساب کا عمل جاری ہوسکے گا۔تاہم ابھی یہ گریڈ 17اور 22تک کے ملازمین اور ان کے بچوں تک محدود ہوگا جسے بعد ازاں نچلے گریڈکے ملازمین پر بھی لاگو کیا جاسکے گا۔آئی ایم ایف کے ساتھ ایسے معاہدے کا مقصد اندرون اور بیرون ملک خفیہ اور بے نامی اثاثوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو ممکن بنایاجائے گا جو ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

