یہ لوگ تب کہاں ہوتے جب بلوچستان سے مسخ شدہ لاشیں ملتیں ہیں، جب پشتونوں پر زبردستی دہشتگردی مسلط کرکے بعد میں ان کا بیجا خون بھایا جاتا، تب یہ کہاں ہوتے ہیں جب سندھ سے سیاسی سوشل کارکنوں کو لاپتہ کیا جاتا ، یہ لوگ کہاں چھپے ہوتے جب پنجاب سے سوشل ایکٹوسٹ اٹھائے جاتے، جب ساہیوال جیسے واقعے ہوتے ہیں ، یہ لوگ تب سوال کیوں نہیں کرتے ،آواز کیوں نہیں اٹھاتے جب ہماری معصوم پھول جیسے 150 بچے ہمارے چوکیدار کی موجودگی میں بیدردی سے قتل ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ان کا ایمان ایک مخصوص وقت میں ہی کیوں جاگتا ہے، جب کسی پر توہیں مذہب کا الزام لگتا ، جب کسی غیرمسلم کی کم عمر بچی زبردستی مسلم بنا کر بیہائی جانی ہو ، ان کا سرٹیفکیٹ دینے والا ایمان تب ہی کیوں جاگتا جب کسی سلمان تاثیر ،مشال خان کا سچ انسانیت کا درس دیتا ہے ، آپ کو بتاتی چلوں احتیاط سے چلیں ان کا ایمان آج کل جاگا ہوا ہے یہ زومبیز کی طرح روڈوں پر مارے مارے پھر رہے ہیں صرف ایک عورت کو شکار کرنے کے لئے کیونکہ ان زمینی خداؤں نے آسیہ کو گستاخی کا مرتکب مان لیا ہے اب چاہے ان کی بات جھوٹ ہی ثابت ہو، آسمانی خدا آسیہ کی بےگناہی کی گواہی دیدے تب بھی ان زمینی خداؤں کی طرف سے فتوا کا فیصلہ ہی اٹل ہوگا۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

