نظم : کشمیر ۔۔ شاہد راحیل خان
کشمیر کی بیٹی سے ردا چھیننے والو
کشمیر کے بیٹوں کی صدا چھیننے والو
خوش رنگ نظاروں کی فضا چھیننے والو
پربت سے بغلگیر گھٹاچھیننے والو
پھولوں سے مہک ٹھنڈی ہوا چھیننے والو
سکھ چین سے جینے کا مزا چھیننے والو
گاتی ہوئی بلبل کی نوا چھیننے والو
بہتے ہوئے جھرنوں کی ادا چھیننے والو
مخمور ہواؤں کا نشہ چھیننے والو
یہ حسن ہے قدرت کی عطاچھیننے والو
بتلاؤ کہ کشمیر نے کیا جرم کیا ہے
وادی میں ہر اک سمت یہ کیوں حشر بپا ہے
ہے گریہ و ماتم بھی تو خیمہ بھی جلا ہے
یہ جنت ارضی ہے یا پھر کرب و بلا ہے
کشمیر کو سب جلتاہوا دیکھ رہے ہیں
بھڑکے ہوئے شعلوں سے بہت دور کھڑے ہیں
منصف ہیں زمانے کے یا امت کے بڑے ہیں
کیا ان پہ بھروسہ ہو کہ سب چکنے گھڑے ہیں
کشمیر کے بیٹو تمہیں خود لڑنا پڑے گا
جینا ہے تو ہر روز تمہیں مرنا پڑے گا

