ریاض: سعودی حکومت کی جانب سے نصابی کتب میں تبدیلی کر دی گئی ہے جس کے تحت نصابی کتب میں سے یہودیوں کے خلاف زیادہ تر مواد یا تو ہٹا دیا گیا ہےیا پھر الفاظ کی شدت کم کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سعودی پالیسی کا مقصد رواداری کو فروغ دینا ہے۔ دنیا بھر میں نصابی کتب اور ان میں شائع شدہ مواد پر نظر رکھنے والے ادارے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ امپیکٹ سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ حصہ نکال دیا گیا ہے جس کے مطابق یہودی جوڑ توڑ کرتے ہوئے دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں تاکہ اپنے ‘مذموم عزائم’ کو تکمیل تک پہنچا سکیں۔اسی طرح اس حصے کو بھی حذف کردیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد اور شہادت کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے ۔ ‘‘اللہ کی راہ میں جہاد اسلام کا عروج ہے ’’ کو بھی اب ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ‘صیہونی خطرہ’ نامی وہ باب بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس میں مختلف موضوعات تھے اور یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اسے باقی رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس باب میں یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل مبینہ طور پر اپنا علاقہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
( بشکریہ : دنیا نیوز )
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

