کراچی: سابق ٹیسٹ کپتان اور دورہ سری لنکا کے لیے پاکستان اسکواڈ میں شامل وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی کپ اپنے نام کرسکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ اس مرتبہ عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ ایشیا میں منعقد ہو رہا ہے، اس لحاظ سے کسی ایشیائی ٹیم کو ہی عالمی کپ جیتنا چاہیے، امید ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
سرفراز احمد نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ عالمی کپ کی ٹاپ فور ٹیموں میں بیشتر کا تعلق ایشیا سے ہوگا، انہوں نے کہا کہ عالمی کپ میں شرکت سے قبل پاکستانی ٹیم کو جتنے زیادہ پریکٹس میچز کھیلنے کا موقع ملے گا وہ ہماری ٹیم کے لیے زیادہ سود مند رہے گا، پریکٹس میچز میں ہار جیت سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
دورہ سری لنکا کے حوالے سے سوال کے جواب میں وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ کراچی میں قومی تربیتی کیمپ کا انعقاد خوش آئند ہے، کراچی اور سری لنکا کے موسم میں قدر مماثلت ہونے سے ہمارے کھلاڑیوں کو ٹریننگ کا فائدہ پہنچے گا جبکہ ٹیسٹ میچز سے قبل پریکٹس میچز کا انعقاد بھی سودمند ثابت ہوگا۔
وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا نائب کپتان بنائے جانے کے اعلان کے بعد ان کی قومی ٹیم میں جگہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں محمد سرفراز احمد نے کہا کہ اس ضمن میں کپتان یا ٹیم منجمنٹ کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، وہی زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ اس سلسلےمیں کیا پلاننگ ہوگی۔
(بشکریہ:ایکسپریس نیوز)
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

