کافی دنوں سے سلیم ملک کے حوالے سے لکھا ، بولا جارہا تھا .انضمام الحق نے سرسری ان کا نام لیا اور انکی بطور سلیکٹر یا کوچ واپسی کامطالبہ کردیا.رمیز راجہ اٹھے تو انہوں نے نام لئے بغیر ہی جواری کرکٹرز کو کرکٹ میں واپسی کی بجائے پرچون کی دکان لگانے کا بول دیا۔ ابھی اس میں اکا دکا آوازیں مزید شامل ہونے لگیں تو پی سی بی کو اپنی صفائی دینے کا خیال آگیا کہ سلیم ملک نے آئی سی سی و پی سی بی سے تعاون نہیں کیا تھا اس لئے ان کی کسی بھی طور واپسی ممکن نہیں ہے.
سلیم ملک نے اس پر اعلان کیا ہے کہ وہ دونوں سے تعاون کے لئے تیار ہیں اور یہی نہیں بلکہ اپنے وقت کے جارح مزاج بیٹسمین نے قوم سے معافی بھی مانگ لی ہے جس پر پی سی بی نے اتوار کو کہا کہ سلیم ملک کا ٹریک پر واپس آنا خوش آئند ہے. وہ رائج الوقت طریقہ سے تمام معاملات کا سامنا کریں اور پھر کوئی امید رکھیں.
اس ساری پکچر میں یہ واضح ہوا کہ بیک ڈور یہ معاملہ اٹھائے جانے،سابق کپتان کے بلا مشروط تعاون کرنے اور پی سی بی کے جواب دینے کے معاملات پہلے سے طے تھے .
اب آگے کیا ہوگا
پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک کو اب سر عام اپنے ان جرائم کا اعتراف کرنا ہوگا جس سے وہ انکاری رہے اور 2008 میں عدالت سے کسی حد تک کلین چٹ بھی لے آئے. آئی سی سی یونٹ کی ہدایات کی روشنی میں اپنے جرائم کی منظر کشی جیسے لیکچر دینے ہونگے اور نوجوانوں کو اپنے انجام سے سبق سیکھنے کا کہنا ہوگا.سلیم ملک کو تاحیات معطلی کی سزا ملی تھی .سلیم ملک کے اس نئے انداز پر ایک مرتبہ پھر ان کی پرانی تکلیف دہ یادیں تازہ ہونگی. میڈیا پر پرانے قصے نئے مسالوں کے ساتھ چلیں گے اور چند ہفتے ایسا شور رہے گا کہ جیسے یہ کل کی بات ہے.
پھر کیا ہوگا؟
سلیم ملک کے حوالے سے 2 آرا بنیں گی.
ایک وہی انضمام الحق والی کہ غلطی ہوگئی. جیسے دوسروں کو ایک موقع ملا .سلیم ملک کو بھی دیا جائے. پی سی بی نے مان لیا تو وہ ہلکے پھلکے کوچ ،ٹرینر لگ جائیں گے.
دوسری رمیز والی رائے کہ یہ کرکٹ کا گند ہے. اسے نہیں آنا چاہیئے اور بظاہر اسے اخلاقی برتری حاصل ہوگی.
پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے سلیم ملک کو اس معمولی سے فائدے کے لئے یہ گڑے مردے کھولنے چاہیئے تھے؟
میرے خیال میں ہر گز نہیں. سلیم ملک کو فائدہ کم اور نقصان ایک بار پھر زیادہ ہوگا.
( بشکریہ :کرک سین )
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

