Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, اکتوبر 26, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
  • فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
  • انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
  • لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
  • جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
  • مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » رضی الدین رضی کی یاد نگاری : میاں مقبول ، حسین سحر اور کاپی پیسٹنگ کا زمانہ
ادب

رضی الدین رضی کی یاد نگاری : میاں مقبول ، حسین سحر اور کاپی پیسٹنگ کا زمانہ

ایڈیٹرمارچ 23, 20227 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
hussain sahar mian maqbool
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

چند روز قبل میاں مقبول احمد صاحب کی پنجابی شاعری کی کتاب” چھلّاں “ کی ڈمی کی ایک کاپی کاغذات میں سامنے آ گئی تو کئی کہانیاں بھی یاد آ گئیں میاں صاحب پنجابی کے شاعر تھے ۔ وہ محکمہ بلدیات میں چیف افسر کے عہدے پر فائز رہے ۔۔ لیہ میں تعیناتی کے دوران انہوں نے 1986 میں ایک یاد گار مشاعرہ بھی کرایا جس میں شرکت کے لیے میں لاہور سے براستہ ملتان لیہ پہنچا اور پھر مشاعرہ ختم ہوتے ہی سیدھا لیہ سے لاہور روانہ ہوا اور براہ راست ایم اےاو کالج کے گیٹ پر اترا جہاں میرا ایف اے کا امتحان تھا ۔۔
میاں مقبول صاحب کے شعری مجموعے کی ڈمی کی اہمیت یہ ہے کہ یہ پروفیسر حسین سحر کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہے ۔ تاریخ اس پر 1982 کی درج ہے لیکن یہ در حقیقت 1983 کا سال تھا ۔ کہ یہی وہ زمانہ تھا جب میں کاپی پیسٹنگ کا بھی ماہر ہوتا تھا ۔ روزنامہ سنگ میل کے زمانے سے ہی میں نے پہلے اخبار اور پھر کتابوں کی کاپی پیسٹنگ بھی سیکھ لی تھی ۔ رفعت عباس ،خلیل بھٹی ،امتیاز روحانی ، اسلم جاوید ، اور رؤف مان سمیت جن دوستوں کے ساتھ میں نے 1980 کے عشرے میں مختلف اخبارات میں کام کیا وہ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں نیوز ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر حضرات کاپی جوڑنا بھی جانتے تھے ۔ بلیک اینڈ وائٹ کے علاوہ ہمیں رنگین صفحات جوڑنا بھی آتے تھے ۔ یہ مہارت اس لیے بھی حاصل کی جاتی تھی کہ اس طرح تنخواہ میں دو تین سو روپے اضافہ ہو جاتا تھا ۔ واپس حسین سحر صاحب کی بنی ہوئی ڈمی کی طرف آتے ہیں‌ ۔۔

ہمارے عہد کے لوگ جانتے ہیں کہ حسین سحر صاحب مکتبہ اہل قلم کے زیر اہتمام کتابیں اور ” اہل قلم “ کے نام سے ادبی مجلہ بھی شائع کرتے تھے ۔ایک روز اہل قلم کی اشاعت میں تاخیر کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ آرٹ ایڈیٹر صاحبان نخرے بہت کرتے ہیں ، سو میں نے سحر صاحب کو اپنی خدمات پیش کر دیں‌۔پھر یوں ہوا کہ سحر صاحب اہل قلم اور کبھی کبھار کسی کتاب کی پیسٹنگ میرے سپرد کر دیتے ، سحر صاحب کے ڈرائینگ روم میں ڈائیننگ ٹیبل پر مسطر لگا کر یہ کاپی جوڑی جاتی ۔۔ شاکر اس دوران قریب بیٹھ کر جمائیاں لیتے تھے اور میرے لیے چچی جان سے چائے لاتے تھے ۔ سحر صاحب کے ساتھ کام کرنا اعزاز تو تھا ہی لیکن لالچ یہ ہوتا تھا کہ اہل قلم کا شمارہ اشاعت سے پہلے ہی ہماری نظر سے گزر جائے ۔ پیسٹنگ کے دوران سحر صاحب سے نظر بچا کر کوئی ایک آدھ” نا پسندیدہ“ غزل ادھر ادھر بھی کر دیتا تھا ۔ اور پھر رسالہ تیار ہونے کے بعد سحر صاحب کو دکھا بھی دیتا اور معصومیت سے کہتا
” اوہو سحر صاحب یہ غزل تو شامل ہونے سے رہ گئی “
اور سحر صاحب مسکرا کر کہتے تھے
” کوئی بات نہیں اگلے شمارے میں لگا دیں گے یہ تو ویسے بھی” عبدالغفور “کی غزل ہے
” عبدالغفور“ وہ بسا اوقات کمزور شاعروں کو از راہ محبت کہا کرتے تھے ۔
عبدالغفور پر مجھے اظہر مجوکہ کا ”غفاری“ یاد آگیا کہ وہ اس نوعیت کے لوگوں کے لیے ” غفاری “ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں مجوکہ اس لیے یاد آ گئے کہ میں نے ان کے رسالے ”سائبان “کی بھی کاپی پیسٹنگ کی تھی ۔ اور اسی طرح جب تک میری نظر ٹھیک رہی تو 1999 تک ” انشعاب “ بھی باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا کہ اس کی کاپیاں بھی میں ہی جوڑتا تھا ۔
خیر بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ یہ ساری کہانی حسین سحر صاحب کے ہاتھ کی بنی ہوئی ڈمی دیکھ کر یاد آ گئی ۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں صحافت کرنے والوں کے لیے یہ بہت سی اصطلاحات اجنبی ہوں گی اور ان میں‌سے بہت سوں نے تو مسطر اور پیلیکن سیاہی دیکھی بھی نہ ہو گی ۔ ہاں فرق صرف یہ ہے کہ کاغذ اور اس پر لکھی ہوئی تحریریں مسودوں میں کہیں نہ کہیں‌موجود رہتی ہیں اور ان کے ساتھ ہی وہ سارا زمانہ بھی محفوظ رہتا ہے ۔ اسی لیے تو ہم ای بک کے زمانے میں بھی کتاب کے عاشق ہیں‌۔۔

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

حسین سحر صحافت
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleوجاہت مسعود کا کالم : کیا عمران خان فسطائی ہیں؟
Next Article سید مجاہد علی کا تجزیہ : اکثریت سے محروم عمران خان کی پٹاری میں کیا ہے ؟
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

اکتوبر 18, 2026

ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم

اگست 5, 2026

نام نہاد عرب بہار اور بھارتی سی جے پی کی کامیاب تحریک : نصرت جاوید کا کالم

جولائی 28, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم اکتوبر 26, 2026
  • کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 25, 2026
  • صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم اکتوبر 25, 2026
  • فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی اکتوبر 25, 2026
  • انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم اکتوبر 24, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.