1972 ء سے حکومت پاکستان نےبا ضابطہ طور پہ یکم مئی کو محنت کشوں کا دن قرار دیا ہے ۔ بین الاقومی سطح پہ متعدد مزدور تحریکیں اس وقت تک منظم ہو چکی تھیں جس کے بعد حکومت نے سرکاری سطح پہ عام تعطیل کا اعلان کیامگر تب سے لیکر اب تک یہ غلاموں کے حقوق کا ڈھول پیٹنے کا دن ہے ۔۔ نہ مزدور پالسی مرتب ہوئی نہ ہی قانون سازی ہوئی ۔ سرمایہ دار یا جاگیر دار ہوں یا وفاقی و صوبائی حکومتیں ۔ طاقت اور اقتدار کے نشے میں دھت ارباب اقتدار کا محنت کشوں اور مزدور وں کے استحصال میں کوئی ثانی نہیں ۔ کم از کم تنخواہ ، عدم تحفظ ، بنیادی انسانی حقوق سے محرومی، ناا نصافی اور مزدور دشمن رویہ ۔۔ صدیوں سے یہ کالا قانون رائج ہےکہ مزدور سے انسان کی طرح نہیں بلکہ مشین کی طرح کام لیا جاتا ہے۔ پاکستان کی بیس فیصد اشرافیہ کی معیشت کا بوجھ 80 فیصد مشین نما مزدور اٹھاتا ہے ۔جس کے کوئی حقوق نہیں ہوتےپاکستان کا عدالتی نظام بھی صرف اشرافیہ کے گرد گھومتا ہے سیاسی مقدمہ بازی کو اہمیت دی جاتی ہے ۔کسی مزدور یا غریب کے وہاں تک رسائی نہیں۔آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور سامرجی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ دار کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مزدور اور غریب غربت کی سطح سے بھی نیچے کی زندگی گذارنے پہ مجبور ہے ۔مہنگائی کے بم نے غریب کی کمر توڑ کے رکھ دی بیروزگاری ، غربت ، بھوک افراط زر میں مسلسل اضافہ ۔حالیہ طوفانی بارشوں کے سبب گندم کی فصل کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔مگر کسان بے یارو مدد گار۔حکوتی سطح پہ کوئی امدادی پالیسی وضع نہیں کی۔کسان جو ملکی معیشت کا اہم ستون ہے تن تنہا کھڑا ہے۔سرمایہ دار کی خوشحالی مزدور پہ منحصر ہےجاگیر دار کسان پہ مگر مزدور و کسان پرجبر و تشدد؛حق تلفی؛وسائل کی لوٹ کھسوٹ؛بد سلوکی اور غلامی مسلط کر دی گئی ہے۔ آۓ روز گھروں میں کام کرنے والی بچیاں ، ورکشاپس پہ کام کرنے والے بچے نہ صرف بد سلوکی کا نشانہ بنتے ہیں جنسی ہراسمنٹ کے بعد قتل بھی کر دیۓ جاتے ہیں ان کیلیۓ شفقت ؛رحم اور درگذر کا کوئ تصور نہیں پاکستان میں لیبر رائٹس کیلیۓ قانون سازی کی اشد ضرورت ہے مزدور پہ جبر و تشدد اور استحصال کے فرسودہ نظام کے خاتمے کیلیۓ عملی اقداامات کرنے ہو نگے ۔جب مساوات اور برابری کا قانون رائج نہ ہو گا نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے نہ ہی خوشحالی اس ملک کا مقدر ہو سکتی ہے۔۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

