اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کسی کو مینڈیٹ چاہیے ہو یا رہائی ، اس کا راستہ مذاکرات ہی ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہوں یا مولانا فضل الرحمان ، ان کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ۔ اگر ہمیں معلوم ہو کہ وہ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں تو ہم خود بھی ان سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ مذاکرات کے لیے آگے بڑھیں اور ہماری طرف سے اس پر انکار ہو لیکن یہ کہنا کہ پہلے ایسا کریں اور یہ کریں ، اس کے بعد مذاکرات ہوں گے ۔ پارلیمانی اور جمہوری نظام میں مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری رپورٹس ہیں کہ پی ٹی آئی ایک نیا 9 مئی کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو اس کی پیش بندی کے لیے جو ضروری ہے وہ ہوگا ۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت اعتماد کا بحران عروج پر ہے ، اداروں کے اندر جو تقسیم نظر آرہی ہے وہ ایسی صورتِ حال نہیں جس پر اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی

