آج پنجاب پبلک سروس کمیشن نے لاہور میں بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے ڈاکٹروں کے انٹرویوز کا انعقاد کیا۔ مجھے متعلقہ شعبے میں تجربے کے کاغذات اور مطلوبہ سند نہ ہونے کی وجہ سے انٹرویو دینے سے روک دیا گیا۔ مجھے متعلقہ افسر نے انٹرویو لینے والے میرے ان کولیگز سے بات نہیں کرنے دی جن کے ساتھ میں گزشتہ دس سال سے رابطے میں ہوں۔ یہ کتنا عجیب ہے کہ میرے شعبے کے ماہرین چپ چاپ بیٹھے یہ تماشہ دیکھتے رہے اور انہوں نے مجھ سے بات تک نہ کی جب کہ ہمارے درمیان فاصلہ بالشت برابر بھی نہیں تھا۔
پنجاب میں پیڈیاٹرک بون میرو ٹرانسپلانٹ کا ایک ہی شعبہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں کام کر رہا ہے۔ پبلک سیکٹر میں شاید پاکستان بھر میں یہ اپنی نوعیت کا واحد شعبہ ہے۔اس کے روح رواں ناصر عباس بخاری ہیں۔ پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اور نجی ہسپتالوں میں یہ علاج بےحد مہنگا ہے۔ اس لحاظ سے اس اسپشیلٹی میں ماہرین کی بھرتی خوش آئند ہے۔
مجھے جولائی 2020 میں باقاعدہ طور پر شوکت خانم ہسپتال کی ملازمت سے الگ کر دیا گیا تھا، اس وقت سے اب تک میں نجی طور پر کام کر رہا ہوں یعنی سیلف ایمپلائیڈ ہوں لیکن نوکری سے محروم ہوں۔ آج کے تجربے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں اب میرے لیے اپنے شعبے میں نوکری حاصل کرنا شاید ممکن نہیں رہا۔ میں 2012 سے بچوں کے خون اور سرطان کے میدان میں خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ میں 2013 سے 2015 تک آغا خان ہسپتال کراچی سے بطور فیلو پیڈز ہیماٹولوجی اور انکالوجی منسلک رہا۔ سی پی ایس پی کے تحت اس میدان میں فیلوشپ کا امتحان بہت بعد میں منعقد ہوا۔ میں نے پانچ سال تک شوکت خانم ہسپتال لاہور میں بطور کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک انکالوجی کام کیا۔ ان نجی ہسپتالوں میں عوام کے لیے صحت اور ڈاکٹروں کے لیے تربیت کی سہولیات کا معیار سرکاری ہسپتالوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ ان ہسپتالوں میں کام کرنے کے لیے مجھے اپنے بچوں سے دور رہنا پڑا لیکن مجھے میری محنت، قربانی اور تجربے کا صلہ نہیں مل سکا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ میری ملازمت سے محرومی خون اور کینسر کے شکار بےشمار بچوں کو بھی ایک ماہر طبیب کی خدمات سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ یہ میرے لیے اور میرے طبقے کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔ میں نے کچھ عرصے تک سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کیا لیکن اس کا مجھے ذاتی طور پر بہت نقصان ہوا کیونکہ اہل حکم مجھ سے سخت ناراض ہو گئے اور مجھ پر کسی بھی ملازمت کے حصول لیے پابندی عائد کر دی گئی۔
پنجاب پبلک سروس کمیشن کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور سینیر اور تجربہ کار ماہرین کے لیے اپنی شرائط میں نرمی کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی باعزت طریقے سے عوام کی خدمت کر سکیں ۔ انہیں کم سے کم اتنا ضرور کرنا چاہیے کہ ان امیدواروں کی قسمتوں کے فیصلے ان کے اپنے شعبوں کے ماہرین کریں ۔ انٹرویو سے روک دینے کا اختیار سرکاری افسران کو نہیں ہونا چاہیے اور متعلقہ شعبے کے ماہرین کو امیدواروں کے انتخاب کے لیے مکمل اختیارات ملنے چاہییں.

