پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں پولیس موبائل پر حملہ کرنے والے دہشتگرد پیدل آئے اور فائرنگ کر کے با آسانی فرار ہو گئے۔
بڈھ بیر میں پولیس موبائل ہونے والے دہشتگرد حملے میں یار محمد شہید اور دو اہلکار سب انسپکٹر فرید خان اور کانسٹیبل غلام حسین زخمی ہوئے تھے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور پولیس ٹیم کے تعاقب میں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق پیدل آئے دہشتگردوں نے پولیس پارٹی کو قریب سے نشانہ بنایا، جائے وقوعہ سے کلاشنکوف کی گولیوں کے خول مل گئے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم کا بتانا ہے کہ حملہ آور واقعے کے بعد کھیتوں کے راستے فرار ہو گئے، واقعے کی مزید پہلوؤں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

