پشاور : پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی منتخب حکومت کے بس ریپڈ ٹرانزٹ یعنی بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کا کام قومی احتساب بیورو کو سونپ دیا ہے۔جمعرات کو عدالت عالیہ بی آر ٹی کیس میں اپنا محفوظ فیصلہ جاری کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ’تفصیلی دلائل سننے کے بعد ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ معاملہ تحقیقات کے لیے نیب حکام کے حوالے کیا جائے۔ ان حقائق کی وجہ سے کہ کام کا دائرہ کار 50 فیصد بڑھایا گیا اور اس منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 21 سے 24 جون تک تھی۔‘فیصلے کے مطابق ابتدا میں منصوبے کے لیے تقریباً 50 ارب لاگت بتائی گئی تاہم بعد میں اسے بڑھا کر 67 اعشاریہ نو ارب تک کر دیا گیا۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ہمیں بتایا گیا کہ منصوبہ ایک ایسی کمپنی کو سونپا گیا جو دیگر صوبوں میں اسی قسم کے کام کے حوالے بدنیتی کی بنا پر پہلے ہی بلیک لسٹ قرار دی جا چکی تھی۔عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ ہمیں مطلع کیا گیا کہ دیگر منصوبوں کے فنڈز بی آر ٹی منصوبے میں لگائے گئے اور یہ ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا کہ دیگر منصوبے بھی عوامی ضروریات کے لیے اہم ہیں۔عدالت نے تفتیش نیب کے حوالے کرتے ہوئے اسے پانچ ستمبر 2018 تک رپورٹ عدالت کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت نے بی آر ٹی منصوبے کے ڈائریکٹر اسرالحق کو فوری طور پر ان کے عہدے سے الگ کر دیا ہے۔اس سے پہلے لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبوں پر بالترتیب تقریباً 30 ارب اور 44 ارب روپے کی رقم خرچ کی گئی جو پشاور بس منصوبے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔تقریباً 26 کلومیٹر پر مشتمل پشاور بس منصوبے کا روٹ چمکنی سے شروع ہو کر خییر بازار، صدر اور پھر وہاں سے یونیورسٹی روڈ سے ہوتا ہوا حیات آباد پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کو گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں شروع کیا گیا تھا جبکہ منصوبے کے افتتاح کے روز ہی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی طرف نے چند مہینے میں پورا کرنے کا دعویٰ کیا۔ابتدا میں اس منصوبے پر نہایت تیز رفتاری سے کام کیا گیا لیکن اس کی ڈیزائننگ میں باربار تبدیلیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔منصوبے کے مطابق بعض جگہوں پر روٹ کو مختصر کرنے کے لیے زیر زمین سرنگیں بنائی جائیں گی جبکہ کچھ مقامات پر فلائی اوور بنا کر وہاں سے سڑک گزاری جائے گی تاکہ روٹ کو مزید طوالت سے بچایا جائے۔تاہم پشاور ڈویلپمینٹ اتھارٹی پی ڈی اے کے حکام نے اس سے قبل بی بی سی کو منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ منصوبہ ملک کے دیگر بی آر ٹی پراجیکٹ کے مقابلے میں ہر لحاظ سے مختلف ہے اور اسے تھرڈ جنریشن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ یہ واحد پراجیکٹ ہے جس کی بین الاقوامی ٹینڈرنگ کی گئی ہے اور اس میں بعض جگہوں پر سائیکل چلانے والوں کے لیے بھی لین بنائے گئے ہیں تاکہ وہاں شہری سائیکلنگ کر کے محظوظ ہو سکیں۔پی ڈی اے حکام کے مطابق اس منصوبے کے لیے کُل 450 بسیں خریدی جائیں گی جبکہ روزانہ ان بسوں میں تقریباً چار لاکھ افراد شہر بھر میں سفر کرسکیں گے۔ بسوں کے روٹ کے قریب شہریوں کی تفریح کے لیے پارکس اور کمرشل مراکز بھی بنائے جائیں گے۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

