لندن : برطانوی جریدے اکانومسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی روپیہ تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان نے رواں سال کے پہلے تین ماہ میں نو سو ٹن سے زائد فٹبال برآمد کئے مگر اس کے باوجود پاکستان کی درآمدات خاص طور سے تیل کی مصنوعات نے پاکستان کی معیشت کو غیرمعمولی نقصان پہنچایا ہے۔ تجارتی عدم توازن اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کا غیرمعمولی بوجھ پاکستانی روپے کی ساکھ کو بری طرح سے متاثر کر رہا ہے۔اکانومسٹ کے مطابق عید کے فورا ً بعد پاکستان میں ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے ۔ اگرچہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ برآ مدات میں اضافہ کی خاطر روپے کی قدر کو ایڈجسٹ کیا گیا مگر اکانومسٹ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کا سٹیٹ بنک مکمل طور پر بے بس تھا اور روپے کی قدر کو سہارا دینے کے لئے کسی کے پاس کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں۔رپورٹ کے مطابق تشویشناک امر یہ ہے کہ 2016 کے مقابلہ میں پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزرو نصف رہ گئے ہیں۔اکانومسٹ کا خیال ہے کہ حال ہی میں رخصت ہونے والی حکومت نے سیاسی دباؤ کے تحت روپے کی گرتی ساکھ کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کی کوشش کی جس سے کساد بازاری میں اضافہ ہوا۔ماضی میں ایسی صورتحال میں عالمی مالیاتی اداروں سے مدد حاصل کی جاتی رہی ہے مگر اس مرتبہ پاکستان کی حکومت نے چین کے بھروسہ پر آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کیا اور چین نے بھی بقول اکانومسٹ "کسی سخاوت کا مظاہرہ نہیں کیا”۔ ویسے بھی پاکستان چین کی ذمہ داری نہیں باوجود اس کے کہ پاکستان کی اقتصادی تباہی چین کے منصوبوں کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔اکانومسٹ کے مطابق فٹبال کا عالمی کپ پاکستان کی برآ مدات کے لئے امیدیں لے کر آتا ہے مگر2001 سے 2013 کے درمیان مسلسل تین عالمی کپ کے موقع پر پاکستان کو اپنی معیشت کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کا سہارا لینا پڑا اور ایک مرتبہ پھر فٹ بال کے عالمی مقابلے شروع ہیں اور پاکستان کی معیشت کو بیرونی سہاروں کی تلاش ہے۔ جریدے کا خیال ہے کہ شائد پاکستان یہ بھول چکا ہے کہ آنے والے دنوں میں چین کے قرضوں کی واپسی کا تقاضا بھی متوقع ہے ۔ تشویشناک امر تو یہ ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی آنے والی حکومت کو ملکی خود مختاری کو داؤ پر لگانا ہو گا۔
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار

