لاہور : معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ قذافی اسٹیڈیم میں اداکردی گئی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔عاصمہ جہانگیرکی نماز جنازہ مولانا مودودی کے صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی، نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی شخصیات، وکلا اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت ہزاروں خواتین نے شرکت کی پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا جنازہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین شریک ہوئیں ۔عاصمہ جہانگیر کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی سلیمہ آج بیرون ملک سے واپس پاکستان پہنچی ہیں،جبکہ عاصمہ جہانگیر کی تدفین ان کے فارم ہاؤس بیدیاں روڈ پر کی جائے گی۔عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جانے والی عاصمہ جہانگیر کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں خاص شہرت حاصل تھی اور انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کرنے کے لیے وزیر اعظم کو خط لکھا تھا اور ان کی تدفین کے دوران قومی پرچم سرنگوں کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
جمعرات, اگست 13, 2026
تازہ خبریں:
- نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے
- سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد : نصرت جاوید کا کالم
- ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ
- عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم
- بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں
- نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان وقت کی ضرورت ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم
- ’ مجتبیٰ خامنہ ای جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند‘ ہیں: ایرانی صدر کا سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد دعویٰ

