قصو: پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کریں گے جن کے مطابق پولیس نے ایک شخص کو ایک بچی کے قتل کے غلط الزام میں ماورائے عدالت قتل کیا تھا۔یہ واقعہ گذشتہ برس فروری میں پیش آیا تھا۔یہ الزامات بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں اس وقت سامنے آئے جب حال ہی میں صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب انصاری کے ڈی این اے سے معلوم ہوا کہ ان بچیوں کو مارنے والا شخص ایک ہی ہے۔پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال فروری میں مدثر نامی شخص گرفتاری کے دوران مزاحمت کی وجہ سے مارا گیا تھا۔
(بشکریہ : بی بی سی اردو )
بدھ, ستمبر 9, 2026
تازہ خبریں:
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا

