لاہور:لاہور ہائی کورٹ نے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کو دھرنے کرنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے انہیں رات 12 بجے تک اسے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس پر کچھ دیر قبل فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا، تاہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالتِ عالیہ نے سیاسی جماعتوں کو دھرنا کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔عدالتِ عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی پاسداری نہ کرنے پرحکومت پنجاب کوکارروائی کی اجازت ہوگی جبکہ دھرنا پُرامن ہوگا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔سماعت کے دوران عوامی تحریک کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق، پیپلزپارٹی کے لطیف کھوسہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمٰن اور درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔خیال رہے کہ لاہور کے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کا دھرنا روکنے کے لیے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ سمیت 2 تاجروں نے درخواست دائر کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ ہوم سیکریٹری عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے، وہ ذمہ دار ہیں انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا۔
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ

