لاہور:لاہور ہائی کورٹ نے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کو دھرنے کرنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے انہیں رات 12 بجے تک اسے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس پر کچھ دیر قبل فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا، تاہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالتِ عالیہ نے سیاسی جماعتوں کو دھرنا کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔عدالتِ عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی پاسداری نہ کرنے پرحکومت پنجاب کوکارروائی کی اجازت ہوگی جبکہ دھرنا پُرامن ہوگا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔سماعت کے دوران عوامی تحریک کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق، پیپلزپارٹی کے لطیف کھوسہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمٰن اور درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔خیال رہے کہ لاہور کے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کا دھرنا روکنے کے لیے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ سمیت 2 تاجروں نے درخواست دائر کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ ہوم سیکریٹری عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے، وہ ذمہ دار ہیں انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

