انقرہ : ترک صدر طیب اردگان نے اس الزام پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے مقدس نوادرات کو چوری کیا۔متحدہ عرب امارات اور ترکی کے درمیان سفارتی سطح پر تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔ انقرہ کے میئر نے متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی سڑک کا نام فخرالدین پاشا سٹریٹ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فخرالدین پاشا 1916 سے 1919 تک مدینہ کے گورنر رہے۔ گزشتہ ہفتے امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان نے ایک ایسا ٹویٹ پوسٹ کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ سلطنت عثمانیہ کے گورنر فخرالدین پاشا نے مدینہ سے قیمتی خزانہ اور مقدس نوادرات چوری کیے ۔ اور اپنے دور حکمرانی میں عربوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔عراق کے ایک غیر معروف اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیے گئے یہ الزامات امارات کے وزیر خارجہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے شیئر کئے۔ ان الزامات میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ترک صدر طیب اردگان کے آباء نے مدینہ کی اس وقت حفاظت کی جب امارات کے وزیر خارجہ کے آباؤ اجداد کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ ترک صدر نے کہا کہ جب ہم مدینہ کی حفاظت کر رہے تھے اس وقت یہ سارے عرب کہاں تھے ۔ترکی اور امارات کے درمیان تعلقات طویل عرصہ سے کشیدہ ہیں۔ امارات اور عرب ممالک نے جب قطر پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ترکی نے قطر کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ترک صدر پر حالیہ الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز ترک صدر نے ایک محفل میں امارات کے وزیر کے بارے میں کہا کہ ان کی تربیت غلط ہاتھوں میں ہوئی۔ ” تیل اور پیسے کی فراوانی نے ان کا اخلاق تباہ کر دیا ہے“ ۔
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ

