اسلام آباد : احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ضمانت منظور کرلی۔دوسری جانب عدالت نے حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے کر ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کو نیب حکام کی جانب سے دائر ایون فیلڈ پراپرٹی ریفرنس کے 53 والیمز کی کاپی فراہم کر دی اور اس کے ساتھ ہی انہیں 50 لاکھ روپے کے علیحدہ علیحدہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت جاری کی تاہم مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کرادیے گئے۔بعد ازاں عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کو رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔واضح رہے کہ مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ہمراہ آج (9 اکتوبر) صبح ہی قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے لندن سے اسلام آباد پہنچی تھیں جہاں پہلے سے موجود نیب حکام نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا تھا جبکہ مریم نواز کو جانے کی اجازت دے دی تھی۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو نیب حکام اپنے ساتھ بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد لے گئے تھے جہاں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور بعدازاں طبی معائنے کے بعد احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔احتساب عدالت نے حسن نواز اور حسین نواز کا مقدمہ شریف خاندان کے دیگر افراد کے مقدمے سے علیحدہ کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دے کر ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔دوسری جانب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے صرف آج (9 اکتوبر) کے لیے استثنیٰ دیا۔بعد ازاں احتساب عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے رواں ماہ 2 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف عدالت میں پیش نہ ہونے پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جبکہ مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

