اوسلو : پاکستان کے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو اوسلو نوبل سنٹر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ وہ یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے لئے ایک پاکستانی تنظیم کی دعوت پر اوسلو آئے ہیں۔ جمعہ کی شام کو اوسلو کی تقریب میں اس وقت بد مزگی پیدا ہوئی جب پرویز مشرف کی تقریر کے بعد وہاں موجود بلوچ نوجوانوں نے ایک جمہوری ملک میں پرویز مشرف کی آمد اور بظاہر امن کے حوالے سے گفتگو کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی آمر، نواب اکبر بگٹی کے علاوہ متعدد بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل میں ملوث ہیں ۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پرویز مشرف سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہے اور منتظمین سیکورٹی اہل کاروں کی مدد سے انہیں وہاں سے نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

