اوسلو : پاکستان کے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو اوسلو نوبل سنٹر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ وہ یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے لئے ایک پاکستانی تنظیم کی دعوت پر اوسلو آئے ہیں۔ جمعہ کی شام کو اوسلو کی تقریب میں اس وقت بد مزگی پیدا ہوئی جب پرویز مشرف کی تقریر کے بعد وہاں موجود بلوچ نوجوانوں نے ایک جمہوری ملک میں پرویز مشرف کی آمد اور بظاہر امن کے حوالے سے گفتگو کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی آمر، نواب اکبر بگٹی کے علاوہ متعدد بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل میں ملوث ہیں ۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پرویز مشرف سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہے اور منتظمین سیکورٹی اہل کاروں کی مدد سے انہیں وہاں سے نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔
جمعہ, اگست 7, 2026
تازہ خبریں:
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ
- ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم
- کیا ریفرنڈم نئے صوبوں کی راہ ہموار کر دے گا : نصرت جاوید کا کالم
- میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- سوات : تھانے کے باہر خودکش دھماکا۔۔ امن مظاہرے میں شریک 14 افراد ہلاک ۔۔ 15 سے زیادہ زخمی
- انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟ وسعت اللہ خان کا کالم
- محسن نقوی ریٹائر ہوں گے یا صدر بنیں گے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

