اسلام آباد: پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی چوتھی اور حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ اس موقع پر عدالتِ عظمیٰ کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور رینجرز کے خصوصی دستے نے جے آئی ٹی ارکان کو سکیورٹی فراہم کی۔ جے آئی ٹی کے ارکان واجد ضیاء کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پیش ہوکر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں 3 رکنی عمل درآمد بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کی۔
جے آئی ٹی کے ارکان نے کمرہ عدالت میں ثبوتوں کے دو باکس بھی پیش کیے جن کا وزن 25 کلو گرام بتایا جا رہا ہے۔ جس وقت جے آئی ٹی کے ارکان سپریم کورٹ پہنچے تو ان کے ساتھ دو باکس بھی کمرہ عدالت میں لے جائے گئے جن پر لفظ ’ثبوت‘ تحریر تھا۔ سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت سوموار تک ملتوی کر دی
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ

