ملتان : ملتان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یوم مئی کے موقع پرمزدور تنظیمیں کوئی ریلی نہ نکال سکیں۔ مزدور رہنماﺅں کا موقف ہے کہ ملتان پولیس کی جانب سے انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر پنجاب حکومت نے دفعہ 144 کے تحت ریلیوں اور چاردیواری سے باہر جلسوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس سلسلے میں ایک رات قبل مزدوررہنماﺅں کو بذریعہ ٹیلی فون صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ان احکامات کے بعد مزدوررہنماﺅں نے کوئی بھی ریلی نہیں نکالی۔ میڈیا کی ٹیمیں دن بھر چوک نواں شہر میں یوم مئی کی ریلیوں کا انتظار کرتی رہیں۔ تاہم اس موقع پر صرف لیڈی ہیلتھ ورکرز نے ملتان پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ملتان میں ہر سال شہدائے شکاگو کی یاد میں مختلف تنظیمیں ریلیاں نکالتی ہیں ۔ یہ ریلیاں شہر کے مختلف علاقوں سے چوک نواں شہر تک آتی ہیں۔ ان میں آل پاکستان ورکرز اتحاد فیڈریشن، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، وومن ورکرز فیڈریشن اور اتحاد یونین کالونی ٹیکسٹائل ملز کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس سلسلے میں جب ساﺅتھ پنجاب ورکرز فیڈریشن کے رہنماﺅں دلاور عباس اورمصور نقوی سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہاکہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ملتان میں کوئی بھی مزدور تنظیم یوم مئی کے موقع پر کوئی ریلی نہ نکال سکی۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں مزدور رہنما دن بھر آپس میں رابطے کرتے رہے اور بعض رہنماﺅں کاخیال تھا کہ پولیس کے روکنے کے باوجود مزدوروں کو سڑکوں پر آنا چاہیے۔ بصورت دیگر مزدور تحریک کو شدید نقصان پہنچے گا۔ لیکن اس کے باوجود بعض رہنماﺅں نے سڑکوں پرآنے کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم اپنے کارکنوں کی جانیں خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ دلاور عباس اور دیگر مزدوررہنماﺅں کے مطابق پولیس کی ہدایات کے مطابق مزدور رہنماﺅں نے اپنے دفاتر میں اجلاس منعقد کیے اور شہدائے شکاگو کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس سلسلے میں جب پولیس ذرائع سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے دفعہ 144 یا ریلیوں پر کسی بھی قسم کی پابندی کی تصدیق سے انکار کردیا اور کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں مزدوروں نے ریلیاں نکالیں جو اس بات کاثبوت ہے کہ پنجاب حکومت نے یوم مئی کے موقع پر ریلیوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

