راولپنڈی : تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے منحرف ہونے والے ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس اور انڈین ایجنسی ‘را’ پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے اہداف مقرر کرتی تھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے کی قیمت بھی ادا کی جاتی تھی۔ تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے مرکزی احسان اللہ احسان اپنے اعترافی بیان میں جس کی ویڈیو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی بہت اطمینان سے اپنی پوری کہانی بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اسلام کے نام پر لوگوں کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ شامل کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان تنظیموں میں ایک مخصوص ٹولا بے گناہ مسلمانوں سے بھتہ وصول کرتا ہے، ان کا قتل عام کرتا ہے، عوامی مقامات پر دھماکہ کرتا ہے، سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں پر حملہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی ان لوگوں میں قیادت کی رسہ کشی اور بھی تیز ہو گئی اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ تنظیم کا لیڈر بنے۔حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نئے امیر کو نامزد کرنے کا مرحلہ آیا تو تنظیم میں انتخابی مہم کی طرز پر تگ و دو شروع ہو گئی۔ احسان اللہ احسان نے بتایا اس موقع پر تنظیم کی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے تنظیم کا قائد نامزد کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ قرعہ مولوی فضل اللہ کے نام نکلا اور ایسی تنظیموں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے جس میں قرعہ اندازی کے ذریعے اہم فیصلے کیے جاتے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ’امیر بھی ایک ایسے شخص کو بنایا گیا جس کا کردار ایسا تھا کہ اُس نے اپنے استاد کی بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کی۔‘
احسان اللہ احسان نے کہا کہ تنظیم کے جنگجوؤں کو پاکستان کی فوج سے لڑنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود پوری قیادت محفوظ ٹھکانوں میں چھپ گئی۔عمر خالد خراسانی سے این ڈی ایس اور را سے مدد لینے کے معاملے پر اپنے ایک مکالمے کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب اس بارے میں انھوں نے اعتراض کیا تو اور کہا کہ اس طرح تو وہ اپنے ملک میں کارروائیاں کر کے کفار کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس اعتراض پر عمر خالد خراسانی کا جواب تھا کہ ’پاکستان میں تخریب کاری کرنے کے لیے اگر انھیں اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو وہ لیں گے۔‘
پیر, اگست 10, 2026
تازہ خبریں:
- جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
- مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
- وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

