ملتان:نام ور نقاد محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی بدھ کے روز طویل علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئے ۔ان کی عمر 71 برس تھی اور وہ شوگر کے عارضے کا شکار تھے ۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی اردو اور سرائیکی کے ممتاز قلمکار تھے ۔
ڈاکٹر طاہر تونسوی کا اصل نام حفیظ الرحمٰن طاہر تھا۔ یکم جنوری 1948ء کو تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان، میں ملک خدا بخش محمود کے گھر پیدا ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان سے میٹرک، گورنمنٹ کالج ملتان سے انٹرمیڈیٹ اور اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے (اردو) کیا۔انہوں نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی زیرِ نگرانی جامعہ پنجاب سے ”سید مسعود حسن رضوی، احوال و آثار “کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
طاہر تونسوی 1974ء میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور ایس ای کالج بہاولپور گورنمنٹ ایمرسن کالج سمیت مختلف کالجوں میں تعینات رہے۔ وہ ملتان تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور ملتان ڈویژن کے ڈائریکٹر ایجوکیشن کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور، بہاء الدین زکریا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ اردو میں بھی خدمات انجام دیں۔ان کی مطبوعہ تصانیف میں ملتان میں اردو شاعری، اقبال اور مشاہیر، مسعودحسن رضوی ادیب ،کتابیات، مسعود حسن رضوی ادیب: حیات اور کارنامے، ڈاکٹر فرمان فتح پوری : احوال و آثار، طنز و مزاح: تاریخ تنقید انتخاب، تجزیے، دنیائے ادب کا عرش، شجر سایہ دار صحرا کا، ہم سفر بگولوں کا، رجحانات، حیاتِ اقبال، تذکرہ کتابوں کا، فیض احمد فیض: تنقیدی مطالعہ، شاعرِ خوشنوا: فیض احمد فیض، اقبال اور سید سلیمان ندوی، تحقیق و تنقید: منظرنامہ، جہان ِ تخلیق کا شہاب، وہ میرا محسن وہ تیرا شاعر، نصاب تعلیم اور اکیسویں صدی، جہت ساز قلم کار: ڈاکٹر سلیم اختر، خواجہ غلام فرید : شخصیت اور فن، عکس فرید، سرائیکی کتابیات آغاز تا 1993ء، اقبال اور عظیم شخصیات، اقبال شناسی اور نخلستان، اقبال اور پاکستانی ادب، اقبال اور مشاہیر، ہم سخن فہم ہیں اور سرائیکی ادب، ریت تے روایت شامل ہیں۔انہوں نے ڈاکٹر مہر عبدالحق کی وفات کے بعد سرائیکی ادبی بورڈ کے لئے بھی خدمات انجام دیں اور بیسیوں کتابیں شائع کیں.ان کی نماز جنازہ دوپہر ایمرسن کالج ملتان میں ادا کی گئی ۔جس میںادیبوں ، شاعروں ، ماہرین رعلیم سمیت زندگی کے مختکف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
فیس بک کمینٹ

