اسلام آباد : ملک بھر میں 19 سال کے التواء کے بعد فوج کی نگرانی میں چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے۔ ادارہ برائے شماریات کے سربراہ اور چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ نے اسے آئینی عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے اس کے نتیجے میں وسائل کی تقسیم میں مدد ملے گی۔ مردم شماری کی نگرانی کے لئے بین الاقوامی اور مقامی مبصرین آ رہے ہیں جو اِس عمل کا جائزہ لیتے رہیں گے اور ادارہ برائے شماریات اُن کو ملک کے طول و عرض میں جانے میں مدد فراہم کرے گا۔ غلط معلومات فراہم کرنے پر جرمانے اور سزائیں دینے کا زیادہ دارومدار شمار کیےجانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر ہو گا۔ پاکستان میں آج تک 5 مردم شماریاں ہو چکی ہیں۔ پہلی مردم شماری 1951ء،
دوسری مردم شماری 1961ء،
تیسری مردم شماری 1972ء،
چوتھی مردم شماری 1981ء،
پانچویں مردم شماری 1998ء، میں ہوئی اور اب چھٹی مردم شماری 2017ء میں ہو رہی ہے ۔ اس مردم شماری میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی شمار کیا جا رہا ہے۔
ہفتہ, نومبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- 23 بین الاقوامی تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ
- زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

