اسلام آباد : ملک بھر میں 19 سال کے التواء کے بعد فوج کی نگرانی میں چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے۔ ادارہ برائے شماریات کے سربراہ اور چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ نے اسے آئینی عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے اس کے نتیجے میں وسائل کی تقسیم میں مدد ملے گی۔ مردم شماری کی نگرانی کے لئے بین الاقوامی اور مقامی مبصرین آ رہے ہیں جو اِس عمل کا جائزہ لیتے رہیں گے اور ادارہ برائے شماریات اُن کو ملک کے طول و عرض میں جانے میں مدد فراہم کرے گا۔ غلط معلومات فراہم کرنے پر جرمانے اور سزائیں دینے کا زیادہ دارومدار شمار کیےجانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر ہو گا۔ پاکستان میں آج تک 5 مردم شماریاں ہو چکی ہیں۔ پہلی مردم شماری 1951ء،
دوسری مردم شماری 1961ء،
تیسری مردم شماری 1972ء،
چوتھی مردم شماری 1981ء،
پانچویں مردم شماری 1998ء، میں ہوئی اور اب چھٹی مردم شماری 2017ء میں ہو رہی ہے ۔ اس مردم شماری میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی شمار کیا جا رہا ہے۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

