اسلام آباد: پرویز مشرف کے انتقال کی خبر آتے ہی حکومتی سطح پر ان کی تدفین کے حوالے سے صلاح مشورے شروع ہوگئے۔ ان کے اہل خانہ کی جانب سے ان کی علالت کے دو ران بتایاگیا تھا کہ انہیں پاکستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایاجائےگا۔ جون2022ءمیں جب ان کی حالت خراب ہوئی توانہیں ایئرایمبولینس کے ذریعے پاکستان لانے کے لیے بھی صلاح مشورے کیے گئے۔ تاہم ڈاکٹروں نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔وزیردفاع خواجہ آصف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سابق صدر پرویزمشرف کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر بیان دیاتھا کہ ماضی کے واقعات کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
واضح ہو کہ پرویز مشرف نے نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کو جلاوطن کردیاتھا۔اور جلاوطنی کے دوران جب وزیراعظم شہبازشریف کے والد میاں محمد کاانتقال ہوا اور وہ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان آئے توانہیں ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیاگیاتھا۔پرویزمشرف کی پاکستان میں تدفین کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
فیس بک کمینٹ

