مردان : 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام میں یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو تشدد کرکے ہلاک کیا ۔پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مشال خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے نازیبا یا توہین آمیز کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ۔ اس قتل کے الزام میں 57 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے بیشتر کا تعلق عبدالولی خان یونیورسٹی سے ہی ہے ان میں یونیورسٹی کے ملازمین بھی شامل ہیں ۔ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان مقدمے کی سماعت کے بعد 30 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ

