مردان : 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام میں یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو تشدد کرکے ہلاک کیا ۔پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مشال خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے نازیبا یا توہین آمیز کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ۔ اس قتل کے الزام میں 57 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے بیشتر کا تعلق عبدالولی خان یونیورسٹی سے ہی ہے ان میں یونیورسٹی کے ملازمین بھی شامل ہیں ۔ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان مقدمے کی سماعت کے بعد 30 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

