بھارت:27 مئی کو انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ ایک مسلمان مرد اور ہندو عورت ایک دوسرے سے شادی نہیں کر سکتے۔ اس فیصلے کے مطابق ایسی شادی کو اسلامی قوانین کی بنیاد پر یا سپیشل میرج ایکٹ کے تحت بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اسلامی قانون کسی مسلمان مرد کی کسی ’بت پرست یا آگ کی پوجا کرنے والی‘ ہندو عورت سے شادی کی اجازت نہیں دیتا اور ایسی شادی کو سپیشل میرج ایکٹ کے تحت بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم تجزیہ کار ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سپیشل میرج ایکٹ کے نفاذ کے مقصد کے خلاف ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک مسلمان مرد اور ہندو عورت کی شادی، جس میں دونوں شادی کے بعد اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر عمل کرتے ہوں، اس شادی کو درست نہیں مانا جا سکتا۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)
پیر, ستمبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا

