بھارت:27 مئی کو انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ ایک مسلمان مرد اور ہندو عورت ایک دوسرے سے شادی نہیں کر سکتے۔ اس فیصلے کے مطابق ایسی شادی کو اسلامی قوانین کی بنیاد پر یا سپیشل میرج ایکٹ کے تحت بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اسلامی قانون کسی مسلمان مرد کی کسی ’بت پرست یا آگ کی پوجا کرنے والی‘ ہندو عورت سے شادی کی اجازت نہیں دیتا اور ایسی شادی کو سپیشل میرج ایکٹ کے تحت بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم تجزیہ کار ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سپیشل میرج ایکٹ کے نفاذ کے مقصد کے خلاف ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک مسلمان مرد اور ہندو عورت کی شادی، جس میں دونوں شادی کے بعد اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر عمل کرتے ہوں، اس شادی کو درست نہیں مانا جا سکتا۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

