میرے ہونے سے پیشتر امی، پاپا دو بچوں کو کھو چکے تھے، ساڑھے تین سال کی بچی اور ڈیڑھ سال کا بچہ ایک مہینے میں ڈِپتھیریا(خناق) کی نذر ہو گئے تھے۔ تب ڈِپتھیریا کی ویکسین نہیں ایجاد ہوئی تھی۔ بھائی جان اکیلے رہ گئے تھے، جب میں دنیا میں آئی، ان میں اور مجھ میں آٹھ سال کا فرق تھا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میرے والدین کا کیا حال ہوگا۔۔ پاپا تو مرد ہونے کے ناطے ضبط کرتے ہوں گے، امی کا حال جدا تھا۔ میں نے ہوش کی آنکھیں کھول کر اُنہیں روتا ہی پایا۔ لیکن دونوں نے ہماری تربیت میں کمی نہ آنے دی، ایک دن میری کسی خطا پر امی نے مجھے کمرے میں بند کردیا۔ مجھے وہ ڈر اور اندھیرا جو چند لمحوں کا تھا، آج بھی یاد ہے، میں سبکیوں کے ساتھ رو رہی تھی جیسے ہی امی نے دروازہ کھولا، میرے معصوم ذہن نے فوراً ایک منصوبے کے تحت ان سے کہا :امی آپ کے دو ہی تو بچے ہیں، پھر بھی آپ ہمیں مارتی ہیں؟ امی نے مجھے تڑپ کر سینے سے لگا لیا،ایک معصوم بچے کا تیر سیدھا ماں کے دل میں لگا تھا، مجھے آج تک ان کے سینے سے لگے ہونےکی گرمی اور اپنی دلیل کی کامیابی کی خوشی نہیں بھولتی۔
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

