میں پاپا کی انگلی پکڑے گلی میں جا رہی تھی،ابھی بولنا شروع نہیں کیا تھا، قد اتنا بڑا تھا کہ پلنگ کے پاۓ تک پہنچتا ہوگا۔ ایک پھلوں کی ریھڑی دیکھ کر پاپا رکے اور سودا کرنے لگے ، میرا قد اِتنا نہیں تھا کہ ریڑھی پر رکّھی چیزیں دیکھ سکوں، لیکن کونے میں رکھی سرخ بیروں کی ڈلیا یا ٹوکری مجھے نظر آ گئی تھی، سرخ چھوٹے بیر مجھے بچپن میں بہت پسند تھے، میں نے اوپر کو ہو کر ، بلکہ سر اٹھا کر،تقریباً اچک اور اچھل کر بہ دِقّت تمام ایک بیر اٹھا لیا، ابھی اِس فتح سے گزری ہی تھی کہ پاپا کا تھپّڑ میرے رخسار پہ تھا، پھر میں ہِچکِیوں اور سِسکِیوں کے ساتھ رو رہی تھی، ریڑھی بان بیچارہ پاپا کے آگے ہاتھ جوڑ رہا تھا، صاحب بچہ ہے آپ کو مارنا نہیں چاہئے تھا ، میں تو خود اسے دے دیتا ،آپ نے معصوم بچے کو کیوں تھپّڑ لگایا۔۔۔مجھے خواب سا یاد ہے پاپا مسکرا رہے تھے، اب سوچتی ہوں ، شاید وہ دل میں مطمئن تھے کہ یہ تھپّڑ آخری رہے گا۔۔اور ایسا ہی ہوا۔۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

