عثمان کریم ایک سرکاری ادارے میں خاصے بڑے افسر ہیں ،افسری کے ساتھ ساتھ لکھنا پڑھنا ان کا شوق ہے ،ان کے قلم میں بلا کی کاٹ ہے ،جس واقعے پر بھی لکھیں اس کی جزیات کو کمال مہارت سے بُنتے ہیں گذشتہ سال حج پر گئے تو سفر ِ حج کی روداد لکھی تو یوں لگا جیسے ایک نیا ممتاز مفتی پیدا ہو گیا ہو ۔ممتاز مفتی نے اپناسفر نامہ حج ؒ”لبیک“ کے نام سے لکھا ،جو سیارہ ڈائجسٹ میں سولہ اقساط میں چھَپا بعد ازاں کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ممتاز مفتی نے اپنے سفر نامہ حج کو رپورتاژ کی شکل میں تحریرکیا ۔اسی طرح عثمان کریم نے بھی اپنا سفر نامہ حج رپورتاژکی صنف ہی میں لکھا ۔
رپورتاژااردو ادب کی جدید صنف ہے مبارک پور اعظم گڑھ کی ”پورہ رانی“ اپنے ایک مضمون ” فن رپور تاژ:ایک مطالعہ“ میں اس صنف کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریر کی وساطت سے پیش آمدہ واقعات و حادثات کو علمی وفنی کمالات سے قارئین کے دل ودماغ میں اتار دینے کے ہنر کو رپورتاژ کہتے ہیں ۔حقیقت پر مبنی رپورتاژنگاری کو
پرکشش الفاظ ،نرالے انداز ،انوکھے طرز میں تحریر کرنا اس کی بنیادی اور اساسی اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے “ اگر رپورتاژ
کے مفہوم کو وصی اللہ کھوکھر کی مرتب کردہ قاموس ” جہانگیر اردو لغت “ کے توسط سے سمجھنے کی کوشش کریں تو وہ لکھتے ہیں کہ ”چشم دید واقعات کا ایسا بیان جو حقیقت کو مسخ کئے بغیر پُر تخیل ادب کی تعریف میں آسکے“۔
عثمان کریم نے خیر پور ٹامیوالی میں پیش آنے والے ایک سچے واقعے کو ادبی تخیل کی بام عروج پر بیٹھ کر کمال مہارت سے سپرد قلم کیا جس کے مطابق خیر پور ٹامیوالی کے ایک درندہ صفت نوجوان نے غریب مزارع کی ایک دسویں کلاس کی طالبہ معصوم بیٹی کی دن دہاڑے آبرو لوٹ لی ،تھانہ پولیس کے چھوٹے بڑے اہلکاروں نے غریب مزارع کو پیروی کے حق سے بھی محروم کردیا اور اس کی بیٹی نے کیڑے مار دوائی پی کر آبرو باختہ زندگی جینے پر موت کو ترجیح دی۔ رپورتاژ نگار ابلیس اور اس کے چیلوں کی زبان سے ساری روداد اگلواتے ہیں
” مبارک ہو ،مبارک ہو منو جی آج ایک اور شودر نے زہر پی کر اپنی جان لے لی“
” ہا ہا ہا ۔۔“ جہنم کی آگ کی لپٹوں کے اندر ایک مکروہ قہقہہ بلند ہوا اور پھر مدہم پڑتے پڑتے چیخوں اور سسکیوں میں مدغم ہوگیا ۔
” میرا فلسفہ آج پھر جیت گیا میں شروع دن سے انسان کی سرشت سے واقف تھا،جس کو برتری ملی ہے، وہ کبھی اسے فراموش نہیں کرسکتا ،مساوات ،اخوت بھائی چارہ،معاشرتی انصاف ۔۔آخ تھو “ منو جی نے حقارت سے ایک طرف تھوکا ،تھوک شعلہ بن کر دوبارہ اس کے نطق سے لپٹ گئی،وہ زور زور سے کھانسا۔
”میں جانتا تھا کہ بڑے بڑے ادیان آئیں گے جو انسانیت کو مواخات اور انصاف کا درس دیں گے ،لوگ وقتی طور پر ان کی تقلید بھی کریں گے ،مگر بہت جلد وقت آئے گا جب میرا گرو ،میرا قبلہ شیطان ان کے سربر آوردہ لوگوں کے دماغوں میں خناس بھر دے گا ،عارضی بنیادوں ،سمجھوتوں اور کمزور عقیدوں پر کھڑا ہوا نظام پھر میرے بنائے ہوئے نظام کی طرف مراجعت کرے گا “۔
” یہ شودر ،یہ ملیچھ ،بھلا ان کا کیا حق ہے کہ برابری کی بنیاد پر وسائل پر اپنا حق اوریکساں انصاف کا مطالبہ کریں ،وہ شودر جو برہمن کے پاﺅں سے پیدا ہوا ۔یہ نہیں ہو سکتا نہ کبھی ہوگا اور کبھی ایسا ہوا تو بے شک جہنم میں آکر میرے منہ پر تھوک دینا“
جہنم کی آگ کی لپٹیں اور ان کی سرخ زبانیں اوربلند ہوگئیں ۔
منواسمرتی گلط نہیں ہوسکتی ،یہ رہتی دنیا تک رہے گی ،پھر چاہے چندر گپت موریہ راج سنگھاسن پر بیٹھے ،چاہے اشوک اپنے سارے بھائیوں کے سر کاٹے ،چاہے قیصر ہو یا کسریٰ،اموی ہو یا عباسی ،فاطمی ہو یا علوی ،غوری ہو یا خلجی ،لودھی ہو یا مغل ،سلطنتِ انگلیشیا کا گوری چمڑی والا ،ستیا گر ہو یا اہنسیاکا پجاری اور یا پھر اسلامیان پاکستان کا ہوس ِاقتدار و
ہوس ِجاہ میں اندھا ہوتا طبقہءامراءیہ سب میرے ہی اقوال کے پجاری اور میرے اصولوں کے عامل ہیں کہ ان کے کل کامفاد میرے بنائے ہوئے ذات پات کے نظام کی بقاءکے ساتھ وابستہ ہے ۔
یاد رکھو شودرو!کبھی برابری کے حقوق اور انصاف کا سوچنا بھی مت ،نہیں تو تمہارا حال بھی وہی ہوگا جو مملکت پاکستان میں ہر روز تمہارا ،تمہاری ماﺅں بیٹیوں اور بچوں کا ہوتا ہے اور جو خیر پور ٹامیوالی کے غریب مزارع کی بیٹی کاہوا ہے ۔
”یہ خیر پور ٹامیوالی میں کیا ہوا ؟“ ایک چیلے نے دوسرے سے پوچھا ۔
” مجھے کیا پتہ،وہاں کے چیلے سے پوچھتے ہیں،یہ کارنامہ اس ہی کا ہوگا۔آفرین ہے“۔
کچھ دیر بعد شیطان کے سارے چیلے خیر پور ٹامیوالی میں جمع تھے اور وہاں کا چیلا باقی تمام چیلوں سے مبارک بادیں وصول کررہا تھا ۔منو جی نے کہا” آج تم نے میرا سر جہنم کی ساری مخلوق میں فخرسے بلند کردیا “۔
منو جی مہراج کی جے “ پھڑپھڑاتے شعلوں کی شر شر میں رقص کرتے شیطان کے چیلوں نے نعرہ بلند کیا۔
” ظلم ہوگا۔۔ظلم ہوگا ۔۔تم شودر انصاف کے انتظار میں گل سڑ جاﺅ گے ،مر جاﺅ گے ،مگر انصاف نہیں ہوگا۔
عثمان کریم کی یہ رپورتاژ عدل و انصاف عاری معاشرے میں خیر پور ٹامیوالی کے ایک غریب مزارع کی فریاد نہیں جس کی معصوم بیٹی کی عزت لوٹ لی گئی بلکہ ہر اس مظلوم کی پکار ہے جو انصاف سے محروم ہے ۔یہ ایک کہانی نہیں حقیقت ہے جس کے کرداروں پر کوئی ایس ایچ او تو کیا کوئی بڑے سے بڑا پولیس افسر بھی ہاتھ ڈالنے کے لئے تیار نہیں ۔
بدھ, ستمبر 9, 2026
تازہ خبریں:
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا

