منیر نیازی نے کہا تھا ” بے ضمیر مردوں سے عورتوں کو پردہ کروانا چاہئے“
ایسے ہی مرد جب زندگی کی دوڑ میں آگے نکل جائیں اور حساس محکموں میں اعلیٰ افسر لگ جائیں تو بات کرتے ہوئے انہیں کسی کا ڈرخوف نہیں ہوتا ،یہاں تک کہ وہ خدا خوفی سے بھی تہی دست ہوتے ہیں ۔
ایک نہتی عورت کے ساتھ قومی شاہراہ پر پیش آنے والا واقعہ پوری قوم کے ضمیر پر دستک اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے ۔کوئی مہذب ملک ہوتا موٹروے پولیس کے اعلیٰ عہدیدار ہی نہیں پورے صوبے کی پولیس کے ذمہ دار آفیسرز اپنی ذمہ داریوں سے دست کش ہو چکے ہوتے ،بلکہ صوبے کا حاکم بھی اپنے آپ کوضمیر کی عدالت میں پیش کر چکا ہوتا ۔صد شکر کہ کہ خادم اعلیٰ کے زریں دور حکومت میں یہ اندوہناک واقعہ رونما نہیں ہوا، ورنہ فوٹو سیشن کے لئے متاثرہ خاندان کے گھر پہنچ چکے ہوتے ۔اس سلسلے میں حکومتی ایوانوں کی خاموشی بھی کسی المئے سے کم نہیں وفاقی ہوں کہ صوبائی۔
سی سی پی او کی طلبی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔یوں ہوتا کہ پہلے سی سی پی او لاہور اور آئی جی موٹر وے سے استعفیٰ طلب کیا جاتا ،پھر انہیں ہتھکڑیاں پہنا کر آئی جی پنجاب کی خدمت میں پیش کیا جاتا اور کسی تحقیقاتی ،بازپرس کے بناان کے لئے کڑی سزا تجویز کی جاتی ،پوری قوم کے سامنے ان کی گوشمالی بلکہ بے حرمتی کی جاتی ،ایسی کہ وہ اپنے خاندان تک کو منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتے ،کہ انہوں نے پوری قوم ہی نہیں بلکہ مسلم امہ کا سر شرم سے جھکادیا ہے ۔
سی سی پی او متاثرہ خاتون پر الزام دھرتے ہوئے زمین میں کیوں نہ گڑ گئے ! خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ فاروق کا دور ہوتا تو ان کی تلوار اس بات کے زبان زد عام ہونے سے پہلے فیصلہ کرچکی ہوتی۔سی سی پی او کو کوڑے لگانے کا مطالبہ کرنے والوں کی سوچ پر بھی حیف ہے کہ جیسے معاملے کی نوعیت اتنی غیر اہم ہو کہ چندکوڑوں سے اس کی تلافی ہوجائے گی۔سزا تو ان لوگوں پر بھی واجب ہو چکی ہے جو متاثرہ خاتون کے بار بار اصرار اور دہائیوں کے باوجود کہ ”سانحے کی تشہیر نہ کی جائے“ اس واقعے کو چار دانگ پھیلانے کے سزاوار ٹھہرے،انہوں نے فقط اس ماں ،بہن اور بیٹی کی خواہش کی پامالی ہی نہیں کی بلکہ میرے پیارے نبی آخرالزماںﷺ کی حدیث کی بھی نفی کی جس کا مفہوم ہے ”جس نے کسی کی پردہ پوشی کی قیامت کے روز اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے“۔
منیر نیازی نے بے ضمیر مَردوں سے عورتوں کو پردہ کروانے کا کہنا ایسے ہی بے ضمیرمرد جو ایسی باپردہ عورتوں پر تنقید کے پتھر برسا رہے ہیں جو دن کی روشنی میں سفر کرنا گوارہ نہیں کرتیں کہ کسی نامحرم کی نظر ان پر نہ پڑے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار یا آئی جی پنجاب انعام غنی کا سی سی پی او لاہور کو طلب کر لینا معمول کی کارروائی ڈالنے کےمترادف ہے ۔کیا وقوعہ کے سرزد ہونے میں کوئی شک باقی ہے ؟جو تفتیش کی گنجائش دی جا رہی ہے ۔اب طلبی کی گھڑی نہیں سزا واقعی کے اعلان کا وقت ہے ،جس سے ایک خاتون کی آبرو باختگی کی تلافی نہیں ہوسکتی ،مگر مستقبل کیلئے عبرت کا نشان ضرور ہوگی۔مجرموں تک رسائی تو بعد کی بات ہے پہلے یہ فیصلہ بیک قلم کر دیاجائے کہ جن کی قلم رو میں ایساسرزد ہوا وہ کس سزا کے مستحق ہیں ۔اس پر سی سی پی او کا دردناک بیان کہ” خاتون رات گئے سفر پر کیوں نکلی؟“یہ پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے والی بات ہے ۔یہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو خیر سگالی کا پیغام ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کے لئے اس امر کا اعادہ کہ وہ رات کے اندھیرے میں ہونے والے جرائم کے ذمہ دار نہیں ۔ایسے تو صوبے کے سب سے بڑے پولیس افسر کے حکم کے سامنے سی سی پی اولاہور آہنی دیوار نہیں بن گئے تھے انہیں یہ خبر تھی کہ ان کی پشت پر کوئی ایسی طاقت موجود ہے جو اپنے سے سینئر ترین اور باس کی حیثیت رکھنے والے افسر پر اس کی برتری قائم کر دے گی ،اس کے پیچھے کون ہے اس کا چہرہ بھی قوم پر عیاں کرنا ہوگا کہ قوم آگاہ ہوسکے اصل میں فیصلے کس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ،کون ہے جو عدل کی زنجیر کو ہلنے نہیں دیتا ،وقت کے حاکموں پر کس کے اختیار کا سکہ چلتا ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب کے قصیدے لکھنے والے ،قائد تحریک انصاف کے عدل کے ڈنکے بجانے والے ،ہمیں بتائیں تو سہی کہ دستانے پہنے ہوئے وہ کونسے ہاتھ ہیں جو ” قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا“۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

