قومی اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے آج حلف اٹھالیا ہے۔ حلف کے حوالے سے معروف دانشور اور فلسفی اشفاق سلیم مرزا نے ایک ایساسوال اٹھایا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے استفسار کیا ہے کہ کیا قومی اسمبلی کے دو مارکسسٹ ارکان نے جو حلف اٹھایا ہے وہ اس کے مندرجات پر یقین رکھتے ہیں؟ یہ سوال صرف ان دو مارکسسٹ ارکا ن ہی سے نہیں قومی اسمبلی کے غیر مسلم ارکان سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ انھوں نے جو حلف لیا ہے اس کی عبارت بارے ان کا کیا مؤ قف ہے؟ میرے خیال میں مارکسسٹ ہوں یا غیرمسلم ارکان اسمبلی انھوں نے حلف کے مندرجات کو پڑھا تو ضرور ہوگا لیکن وہ خود میں اس سے انحراف کی جرات نہیں پا تے ۔
اسمبلی میں حلف کی عبارت سے انکار کرنے کے حوالے سے پارلیمانی تاریخ میں ایک شخص کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ چارلس بریڈلا وہ پہلا شخص تھا جس نے برطانوی ہاؤ س آف کامنز میں مذہبی حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔چارلس بریڈلا کا تعلق ایک مفلوک الحال خاندان سے تھا۔ اس نے عملی زندگی کا آغاز بطور چپراسی کیا۔ بعد ازاں وہ ایک کول کمپنی میں کلر ک بھرتی ہوگیا تھا۔ اس نے اوائل عمری ہی میں انجیل اور چرچ کے بیان کردہ عقائد کو چیلنج کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ برطانوی فوج میں بھرتی ہوا اور اس کی تعنیاتی ڈبلن میں ہوئی فوج سے قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر اس نے ایک وکیل کے ہاں ملازمت اختیار کرلی ۔ اس نے سیکولر سوسائٹی میں شمولیت اختیار کی اور سیکولر نظریات کے فروغ کے لئے نیشنل ریفارمر کے نام سے رسالہ جاری کیا ۔ چارلس بریڈلا نے1880 میں لبرل پارٹی کی طرف سے برطانوی ہاؤ س آف کامنز کے الیکشن میں حصہ لیا اور منتخب ہوکر جب وہ ایوان میں پہنچے تو انھوں نے مذہبی حلف لینے سے انکار کردیا اور مؤ قف اختیار کیا کہ مذہبی حلف غیر ضروری اور انسانی ضمیر سے متصادم ہے۔ ایوان میں قدامت پسند پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے چارلس بریڈلا کے موقف کو مسترد کردیا ۔ چارلس بریڈلا کو متعین وقت کے اندر حلف نہ لینے کی بنا پر رکنیت سے محروم کردیا گیا۔ انھوں نے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور وہ دوبارہ منتخب ہوگئے ۔ انھوں ایوان میں پہنچ کر ایک دفعہ پھر اپنا موقف دوہرایا ۔ بالآ خر ہاؤ س آف کامنز کے قواعد میں تبدیلی ہوئی اوریہ رکن کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ مذہبی حلف لینا چاہتا ہے یا نہیں۔منتخب ہونے کے پانچ سال کی پیہم جدوجہد کے بعد 1885 میں چارلس بریڈلا نے رکنیت کا حلف لیا۔ بریڈلا ہندوستان کے عوام کے لئے جمہوری سیاسی حقوق کا پرجوش حمایتی تھا ۔ ہندوستان کے عوام کے جمہوری حقوق کے لئے جد وجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لاہور کے شہریوں نے چندہ اکٹھا کرکے ضلع کچہری لاہور کے پہلو اور دربار داتا گنج بخش کے عقب میں بریڈلا ہال تعمیر کیا جو آج بھی بریڈلا کی جمہوریت اور سیکولر ازم کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے ۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

