لاہور :لاہور ہائیکورٹ نے وکلا دفاتر کے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی وصولی کالعدم قرار دے دی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم نے لاہور بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر 3 صفحات کا فیصلہ دیا جس میں عدالت نے کہا کہ وکلا دفاتر سے سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا، وکلا ’ریٹیلر‘ کی تعریف میں نہیں آتے لہٰذا وکلا دفاترکے جولائی کے بجلی بلوں سے سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ ریٹیلر ایسا فرد ہوتا ہے جو اشیا عوام کو فروخت کرتا ہے مگر وکلا کلائنٹس کو قانونی خدمات دیتے ہیں اور اس میں اشیا کی فراہمی ملوث نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سیلز ٹیکس ختم کروانے کے لیے وکلا مخصوص معلومات کمشنر ان لینڈ ریونیو کو دیں، کمشنر ان لینڈ ریونیو وکلا کی معلومات کی موقع پر جا کر تصدیق کرنے کا مجاز ہوگا۔عدالت نے حکم دیا کہ وکلا دفاتر کے بجلی کے بلوں سے وصول سیلز ٹیکس قانون کے مطابق واپس کیا جائے۔
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا

