لاہور : صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں پولیس نے پالتو شیر کی جانب سے تین بچوں کو زخمی کرنے کے واقعے پر شیر کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تھانہ جوہر ٹاؤن میں زخمی بچوں کے والد کی مدعیت میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں مدعی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تین جولائی (جمعرات) کو اُن کے تین بچے گلی میں کھیل رہے تھے جب ایک خونخوار شیر قریب واقع ڈیرے کی دیوار پھلانگ پر بچوں پر پنجوں اور دانتوں کی مدد سے حملہ آور ہوا۔
والد نے الزام عائد کیا کہ جب ان کے بچے خوف اور درد کے مارے چیخ و پکار کر رہے تھے تو اس دوران شیر کے مالک (ملزمان) اس صورتحال سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ والد کے مطابق بچوں کو زخمی کر کے شیر چھلانگ لگا کر واپس ڈیرے میں داخل ہو گیا۔انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ملزمان اپنے پالتو شیر کو گاڑی پر لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس نے یہ مقدمہ اقدام قتل سمیت پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا ہے۔
پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وائلڈ لائف رینجرز موقع پر پہنچ گئے اور بغیر لائسنس شیر رکھنے والے شخص کو گرفتار کر لیا جبکہ شیر کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق بغیر لائسنس اور حفاظتی تقاضوں کے بغیر شیر کو رکھنا ناقابل ضمانت جرم ہے جس کی خلاف ورزی پر سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر ہے۔
محکمے کے مطابق وائلڈ لائف کے نئے قوانین کے تحت شیر رکھنے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ، مقررہ سائز کا پنجرہ اور ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی ہے۔
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

